ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا حق مہر اور خاندانی تنازعات سے متعلق اہم فیصلہ جاری

لاہور ہائیکورٹ کا حق مہر اور خاندانی تنازعات سے متعلق اہم فیصلہ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف:لاہور ہائیکورٹ نے خاندانی تنازعات اور حق مہر سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نکاح نامے میں حق مہر کا ذکر نہ ہونے کے باوجود علیحدہ معاہدے کے تحت طے شدہ مہر قانونی طور پر نافذ العمل ہوتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ نکاح نامہ حق مہر کی شرائط کا واحد یا حتمی دستاویز نہیں ہے، کیونکہ مہر شادی سے پہلے، دورانِ شادی یا بعد میں بھی طے کیا جا سکتا ہے۔ فیصلے کے مطابق حق مہر شوہر پر فرض اور بیوی کا قانونی حق ہے، جسے شادی کے دوران خاموشی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ شوہر کو شادی کے بعد بھی حق مہر کی رقم یا جائیداد میں اضافہ کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے، جبکہ ای اسٹیمپ پالیسی ٹیکس ریگولیشن کے لیے ہے اور عام اسٹیمپ پیپر پر لکھا گیا مہر کا معاہدہ بھی باطل نہیں ہوتا۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ جعل سازی کا الزام لگانے والا اگر دستخطوں کی فارنزک جانچ سے انکار کرے تو اس کا موقف قابلِ قبول نہیں ہوتا۔ مزید کہا گیا کہ فیملی کورٹس پر سول پروسیجر کوڈ اور قانونِ شہادت کی سخت تکنیکی شرائط لاگو نہیں ہوتیں۔

فیصلے میں واضح کیا گیا کہ حق مہر کے تنازعات کا فیصلہ کرنا فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اور آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے شہری محمد خان کی اپیل خارج کرتے ہوئے فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور انور بی بی کے حق مہر کا فیصلہ درست قرار دیا۔11 صفحات پر مشتمل اس فیصلے کو عدالتی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔