سٹی42: خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے کسی رہنما پر کبھی دہشتگردوں کا حملہ نہ ہونے کی بحث کے دوران اچانک عمر ایوب نے عید کے دنوں میں کسی سے عید نہ ملنے کا فیصلہ سنا دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی سکیورٹی خطرے میں ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کے قریبی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ عمر ایوب نے مبینہ سیکورٹی خدشات کے باعث اپنی سیاسی سرگرمیاں محدود کر دی ہیں۔
عمر ایوب نےعید ک اپنے گھر پر گزارنے اور کہیں نہ آنے جانے کا عندیہ دیا ہے۔
عمر ایوب نے بتایا ہے کہ انہوں نے صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر "سیکورٹی خدشات" کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کی طرف سے عمر ایوب کی سکیورٹی کو اچانک خطرہ لاحق ہو جانے کی باتیں اس وقت سامنے آ رہی ہیں جب کئی روز سے یہ بحث چل رہی ہے کہ خیبر پختونخوا مین جہاں دہشتگردوں کی سرگرمیاں قابو سے باہر ہیں، وہاں پی ٹی آئی کے کسی لیڈر پر کبھی کوئی حملہ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی کے رہنما خارجی دہشتگردوں کے خلاف کبھی کچھ نہیں بولتے۔
اب پی ٹی آئی کے رہنما نے اچانک خود کی سکیورٹی کو خطرہ ہونے کا بیان دیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ ان کی سکیورٹی کو کس سے خطرہ ہے۔
عمر ایوب کی سکیورٹی کے انتظامات اب بھی معمول کے مطابق ہیں۔ ان کے ساتھ موجود رہنے والے سکیورٹی گارڈوں کی تعداد میں کسی کمی بیشی کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے عمر ایوب کو خصوصی پروٹوکول حاصل ہے اور وفاقی حکومت کی طرف سے ان کی اور ان کے گھر کی حفاظت کے لئے خصوصی سکیورٹی انتظامات کئے جاتے ہیں۔ جب وہ خیبر پختونخوا میں ہوتے ہیں تب بھی انہیں قانون کے مطابق خصوصی سکیورٹی حاصل رہتی ہے بلکہ ان کی اپنی حکومت ہونے کی وجہ سے انہیں اضافی اہمیت دی جاتی ہے۔