ویب ڈیسک: بھارت کی بڑی سیاسی جماعت کانگریس کے ریاست اتر پردیش کے صدر جے رام رمیش نے کہا کہ اہل وطن کے دباؤ کے باعث ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد رام مندر چندہ چوری کیس میں ایف آئی آر درج ہوئی،لیکن اتنے دن بعد بھی آر ایس ایس اور بی جے پی سے وابستگی کے باعث مرکزی ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں۔
ایودھیا کے رام مندر میں ’درشن‘ کے لیے جا رہے کانگریس کے ریاستی صدر جے رائے کو ایک ہوٹل میں روک دیئے جانے کے بعد سے اپوزیشن جماعت کانگریس مودی حکومت پر حملہ آور ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ ریاستی صدر کو ہوٹل پدم شری پیلس میں ہاؤس اریسٹ کر لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ جے رائے 9 رکنی وفد کے ساتھ ایک روز قبل ہی ایودھیا پہنچے تھے۔ اسی دوران عطیات و نذرانے کی چوری کے حوالے سے کانگریس نے مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اجے رام رمیش نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کر حکومت پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’’مودی جی اور ان کے ساتھیوں کا بس یہی سپنا، رام نام جپنا، پرایا مال اپنا‘‘۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ شری رام مندر میں ہوئی چندے کی لوٹ سے پورا ملک افسردہ ہے۔
ایکس پوسٹ میں جے رام رمیش مزید لکھتے ہیں’’اسی دوران بھگوان شری رام مندر کے درشن کرنے جا رہے کانگریس لیڈران کو تاناشاہ طریقے سے ہاؤس اریسٹ کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔‘‘ ان کے مطابق اہل وطن اس معاملے میں فوری کارروائی چاہتے ہیں لیکن وزیر اعظم نریندر مودی، اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سمیت پورا بی جے پی اور آر ایس ایس کا نظام اس چندہ چوری سے وابستہ چوروں کو بچانے اور معاملے کو دبانے میں مصروف ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’وزیر اعظم جی، بھگوان شری رام مندر سے ہوئی اس لوٹ میں قصورواروں کو بچانے والے بھی پوری طرح گنہگار ہیں۔ اس گھناؤنے عمل کے لیے بھگوان شری رام تو آپ کو سزا دیں گے ہی، ملک کے عوام بھی آپ کو سزا دیں گے‘‘۔