ویب ڈیسک: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں امریکا سے عبوری معاہدے پر عمل درآمد اور منجمد اثاثوں کی واپسی زیرِ بحث آئے گی، امریکی وفد سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی بیرونی مداخلت کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا سے عبوری معاہدے پر عمل درآمد اور ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی کے حوالے سے قطر کے ساتھ مذاکرات کل دوحہ میں ہوں گے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اس موقع پر امریکی وفد کے ساتھ کسی بھی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔