ویب ڈیسک: بھارت کی ریاست اترپردیش، بہار اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں ٹماٹر 50 فیصد تک مہنگے ہو گئے ہیں، جبکہ بھارتی دارالحکومت دہلی میں قیمت تقریباً دوگنی ہو گئی ہے کیونکہ شدید گرمی نے پیداوار کو نقصان پہنچایا اور دوسری ریاستوں سے آنیوالی ٹماٹر کی سپلائی کم ہو گئی ہے۔پاکستان میں بھی گرمی کے موسم میں ٹماٹر مہنگے ہو گئے ہیں،کراچی میں ٹماٹر کی قیمت کو پر لگ گئے ہیں اور ایک کلو ٹماٹر 300 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے دارالحکومت دہلی سمیت دیگر شہروں میں ایک بار پھر سے آلو، پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ایک طرف جہاں دہلی میں ٹماٹر کی قیمتیں دوگنی ہو گئی ہیں، دوسری جانب جون کے مہینے میں ملک میں ٹماٹر کی اوسط قیمت 18 فیصد بڑھ گئی ہے۔ جبکہ پیاز کی قیمتوں میں اوسط 10 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ ملک میں پڑنے والی شدید گرمی نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا ہے۔ ساتھ ہی عام لوگوں کی جیب پر بھی اثر پڑنا شروع ہو گیا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں جون مہینے کی مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہونے کا امکان اور ساتھ ہی اشیائے خوردونوش کی مہنگائی میں بھی اس کا اثر دیکھنے کو ملے گا۔
بھارت کی کنزیومر افیئرز منسٹری کے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران ٹماٹر کی اوسط خوردہ قیمت 18 فیصد، پیاز کی 11 فیصد اور آلو کی قیمت میں 1.3 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ کنزیومر پرائس انڈیکس میں ان تینوں سبزیوں کا حصہ 1.75 فیصد ہے۔ سالانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو ٹماٹر کی قیمتوں میں 25 فیصد اور پیاز کی قیمتوں میں 3.3 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ آلو کی قیمتوں میں 17 فیصد کی کمی آئی ہے۔
بے موسم بارش سے فصل کے اسٹوریج کی کوالٹی پر اثر پڑنے کے بعد کئی ریاستوں میں پیاز کی قیمتیں 10 سے 20 فیصد بڑھی ہیں۔ مون سون کے آنے، اس کے پھیلاؤ اور تیزی کی بنیاد پر پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں میں موسمی اچھال آتا رہتا ہے۔ ال نینو اور بارش میں تاخیر کے باعث پڑی شدید گرمی نے ٹماٹر کی نازک فصل کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔