ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اقلیتوں کے طلباکیلئےمقرر 2 فیصد کوٹہ پر عملدرآمد نہ کرنے کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج

اقلیتوں کے طلباکیلئےمقرر 2 فیصد کوٹہ پر عملدرآمد نہ کرنے کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : اقلیتی طلباء کے لیے ہائیر ایجوکیشن اداروں میں مقرر کردہ دو فیصد کوٹہ پر عملدرآمد نہ کرنے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا گیا ہے۔

درخواست ایڈووکیٹ نصیب انجم مسیح نے دائر کی ہے۔درخواست میں چانسلر پنجاب یونیورسٹیز، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور سیکرٹری تعلیم کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار کے مطابق حکومت پنجاب نے سال 2020 میں اقلیتی طلباء کے لیے صوبے کے تمام ہائیر ایجوکیشنل اداروں میں دو فیصد کوٹہ مقرر کیا تھا، تاہم اس پر تاحال موثر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا،درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ میڈیکل کالجز، انجینئرنگ یونیورسٹیز، نرسنگ سکولز اور دیگر جامعات اس نوٹیفکیشن پر عمل نہیں کر رہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ متعدد یونیورسٹیز نے ایف اے اور ایف ایس سی کے نتائج کا انتظار کئے بغیر ہی داخلوں کا عمل شروع کر دیا ہےدرخواست میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ یونیورسٹیز کی جانب سے جاری کردہ داخلہ فارم اور اشتہارات میں اقلیتی طلباء کے لیے مختص دو فیصد کوٹہ کا کوئی ذکر موجود نہیں۔

درخواست گزار کے مطابق انہوں نے اس حوالے سے چانسلر آف یونیورسٹیز کو بھی درخواست دی تھی، تاہم نہ تو اس پر کوئی عملدرآمد کیا گیا اور نہ ہی انہیں کوئی جواب فراہم کیا گیامزید کہا گیا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن ادارے حکومتی نوٹیفکیشن کے باوجود اقلیتی طلباء کے لیے مختص کوٹہ پر عمل نہیں کر رہے،جو آئینی و قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہےدرخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ تمام یونیورسٹیز اور متعلقہ اداروں کو اقلیتی طلباء کے لیے داخلوں میں دو فیصد کوٹہ پر فوری اور مؤثر عملدرآمد کا حکم جاری کرے۔

Ansa Awais

Content Writer