سٹی42: بحرالکاہل کے دور دراز علاقہ میں روسی جزیرہ کے قریب آنے والے شدید زلزلہ سے جنم لینے والے سونامی سونامی کی لہریں آدھا دن گزرنے کے بعد امریکی ساحل تک بھی پہنچ گئیں۔
روس اور جاپان میں آنے والے 8.8 شدت کے ہولناک زلزلے کے فوراً بعد امریکہ کی ریاست ہوائی کے ساتھ مین لینڈ امریکہ کی کئی ریاستوں کے ساحلی شہروں، قبصبوں میں بھی انتہائی نوعیت کا سونامی الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ ہوائی امریکہ کا حصہ ہے لیکن یہ مین لینڈ سے دور بحرالکاہل کے منہ پر واقع ہے۔امریکی علاقوں میں یہاں سونامی نے سب سے پہلے پہنچنا تھا۔
تازہ ترین خبر یہ ہے کہ پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر کا کہنا ہے کہ سونامی کی لہریں ہوائی کے ساحل سے ٹکرانا شروع ہو گئی ہیں اور اب تک سب سے اونچی چار فٹ کی لہر ریکارڈ کی گئی ہیں۔
سونامی کی لہروں کے ساحل سے ٹکرانے سے پہلے ہی ہوائی میں ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر چلے گئے ہیں۔
ہوائی کے گورنر جوش گرین کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی ایسی لہر نہیں آئی ہے، جو خطرے کا باعث ہو۔ تاہم خطرہ برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورت حال سنگین ہو سکتی ہے، لوگ اس کو سنجیدگی سے لیں اور اونچے مقامات پر پناہ لیں، کیوں کہ 10 فٹ اونچی لہریں ٹکرانے کا امکان باقی ہے۔
امریکی سونامی وارننگ سینٹر نے قریبی ملک ایکواڈور کو بھی خبردار کیا کہ 10 فٹ اونچی لہریں ایکواڈور سے ٹکرا سکتی ہیں۔
دوسری جانب امریکی کوسٹ گارڈ کا بحری جہازوں کو ہوائی کی بندرگاہوں سے دور رہنے کا حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ آج روس کے مشرقی ساحل کے قریب علاقے کمچاٹکا (Kamchatka) میں 8.8 شدت کا ہولناک زلزلہ آیا، جس نے تباہی مچا دی، جس کے بعد امریکا، چین، جاپان اور دیگر ملکوں میں سونامی وارننگ جاری کر دی گئی تھی۔
زلزلے سے متعدد گھر منہدم اور عمارتیں لرز گئیں، روس کے مشرقی علاقے سے 3 سے 4 میٹر اونچی لہریں ٹکرا گئیں جس سے مختلف علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔ کمچاٹکا کے گورنر نے کہا کہ یہ زلزلہ دہائیوں میں آنے والا سب سے زیادہ طاقت ور تھا، نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
جاپان کے مختلف علاقوں میں سونامی کی لہروں کے بعد سائرن بجائے گئے، جزیرے ہوکیڈوں سے سونامی کی لہریں ٹکرائیں، اور ٹوکیو میں بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا اور نیوکلیئر پلانٹ بھی خالی کروا لیا گیا۔