ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

موٹے افراد کو جیل؛ پتلے ہونے پر ملے گئی رہائی

موٹے افراد کو جیل؛ پتلے ہونے پر ملے گئی رہائی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : موٹے اب سیدھے جیل جائیں گے، پتلے ہوں گے تو باہر آئیں گے۔ جی ہاں نئے سال میں ایسا ہی ہو گا لیکن فی الحال پاکستان میں نہیں بلکہ چین میں ایسا ہو رہا ہے۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق چین میں موٹاپے کے شکار افراد کیلئے خصوصی' جیلیں' قائم کی گئی ہیں۔ ان جیلوں میں رکھے گئے موٹے 28 دن میں وزن کم کر رہے ہیں۔ چین میں موٹے شہریوں کو چربی کے بوجھ سے رہائی پانے کے لیے خصوصی'جیل' میں قید کاٹنا پڑ رہی ہے۔ وہاں بعض علاقوں میں ایسی "جیلیں"   قائم کی گئی ہیں جن میں 28 دن قید رہنے والے موٹے وزن کم کر کے باہر نکلتے ہیں۔  میڈیا رپورٹس کے مطابق موٹاپے کے پیچیدہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے موٹے شہری اپنے طور پر کوشش کرتے ہیں تو تھوڑی سی ہی کوشش کر کے تھک جاتے ہیں، زیادہ کھانے سے رک نہیں پاتے یا کیلوریز اور فیٹ برن کرنے کے لئے درکار ورزشیں خود سے کر نہیں پاتے، تھوڑی کوشش کرتے ہیں اور پھر سے زیادہ کھانے کی طرف چلے جاتے ہیں یا ورزش کے ناغے کرنے لگتے ہیں۔

 چربی تھوڑی اترتی ہے تو اس کے بعد پہلے سے بھی زیادہ چرھ جاتری ہے۔ اس صورتحال میں پھنسے ہوئے موٹوں کی مدد کرنے کے لئے اب خصوصی  بحال مراکز بنائے جا رہے ہیں جن کو موٹوں کی جیل کہا جا رہا ہے۔  کمرشل اور سرکاری سرپرستی میں چلنے والے خصوصی مراکز  کا موٹوں کی جیل جیسا نام عوامی حلقوں کی طرف سے آیا ہے اور اس میں کافی  حقیقت بھی ہے۔ عام جیلوں سے ان جیلوں کا بنیادی فرق یہ ہے کہ یہاں قیدی اپنی خوشی سے جاتے ہیں، عام جیلوں میں قیدیوں کو زبردستی بھیجا جاتا ہے۔  چربی کے بوجھ سے رہائی دلانے والی ان جیلوں میں موٹاپے  کے شکار افراد 28 دن تک رہتے ہیں اور سخت جسمانی تربیت اور ڈائیٹ کنٹرول  کے ذریعے وزن کم کرتے ہیں۔

 ایک آسٹریلوی سوشل میڈیا انفلوئنسر، جنہوں نے حال ہی میں اس کیمپ میں شمولیت اختیار کی،  انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے  کیمپ کی اندر کی زندگی کی تفصیلات شیئر کیں۔    سوشل میڈیا انفلوئنسر کے مطابق یہ فوجی طرز کے کیمپ بند عمارتوں میں قائم ہیں، جہاں شرکا کو تربیت مکمل ہونے سے پہلے کسی جائز وجہ کے بغیر باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ انسٹاگرام پر Eggeats  اکاؤنٹ کو چلانے والے انفلوئنسر نے بتایا کہ اس کیمپ میں داخلے کی فیس ایک ہزار ڈالر سے کم ہے، جس میں رہائش، تربیت اور روزانہ کے کھانے شامل ہیں۔

 اس پروگرام کے تحت شرکا کو روزانہ 4گھنٹے کی سخت ورزش کروائی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہر فرد کے لیے ٹرینر انفرادی ڈائٹ پلان تیار کرتا ہے۔ کھانے کو صرف وہی ملتا ہے جو ڈائیٹ پلان میں لکھا گیا ہے۔ اس کے سوا جیل میں قید موٹے کچھ نہیں کھا سکتے۔  موڈ  ہو یا نہ ہو، تھکاوٹ کا بہانہ ہو یا نیند آ رہی ہو، ورزش سے کسی قیدی کو فرار نہیں ملتا۔  روزانہ فٹنس ورزشوں میں ٹریڈمل پر دوڑ، باکسنگ اور ایکسٹینسیو  کارڈیو ورزشیں شامل ہوتی ہیں۔اچھی خاصی کیلوریز برن کرنے کے بعد کھانے میں انتہائی ضروری پروٹین، فائیبر اور کاربو ملتی ہیں۔ جسم کی چربی روزانہ ہر لمحے جلانے کا مکمل اہتمام کیا جاتا ہے اور جسم کو دوبارہ چربی بنانے کے لئے مواد دیا ہی نہیں جاتا۔   کیلوریز پر مکمل کنٹرول کے باعث یہاں آنے کے بعد کئی دن تک قیدیوں کو زبردست بھوک لگتی رہتی ہے، جیل سے باہر وہ ایسی بھوک پر کبھی کنٹرول نہیں کر سکتے لیکن یہاں قید کے دوران انہیں کنٹرول نہیں صرف صبر کرنا پڑتا ہے کیونکہ اس کے سوا وہ کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ 

 ان مراکز کو ’جیل‘ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کے دروازے 24 گھنٹے بند رہتے ہیں اور کوئی بھی شخص من پسند کھانے کھانے کے لئے چپکے سے باہر نہیں جا سکتا۔ اس جیل کے اندر  باہر سے کچھ بھی آ سکتا ہے لیکن کھانا بہرحال نہیں آ سکتا۔ آسٹریلوی انفلوئنسر کے مطابق، انہوں نے کیمپ میں صرف 2 ہفتوں کے اندر 4 کلو وزن کم کر لیا۔یہ کیمپ خاص طور پر ان افراد کے لیے مفید ثابت ہو رہے ہیں جو وزن کم کرنے کے عمل میں مستقل مزاجی برقرار نہیں رکھ پاتے۔ 

 اب چین دنیا میں موٹاپے کے شکار افراد کا سب بڑا ملک ہے۔  2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق، چین کی تقریباً 50.7 فیصد آبادی کا وزن ضرورت سے زیادہ ہے۔  اس سے پہلے سب سے زیادہ موٹے لوگ امریکہ میں رہتے تھے۔