ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

متحدہ عرب امارات پر سعودی عرب کے الزامات کا جواب سامنے آ گیا

متحدہ عرب امارات پر سعودی عرب کے الزامات کا جواب سامنے آ گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : متحدہ عرب امارات نے یمن میں ایک علیحدگی پسند گروہ کو اسلھہ بھیجنے میں یمن کے ملوث ہونے کے متعلق سعودی عرب کے بیان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے تمام الزامات مسترد کردیے۔

 آج یمن کی مکل پورٹ پر سعودی فورسز نے ائیر سٹرائیکس کیں۔ ان ائیر سٹرائیکس کے بعد سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے مطالبہ کیا کہ وہ یمنی حکومت کے مطالبے کے مطابق 24 گھنٹے میں اپنی فوج یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت کا عمل فوری بند کرے۔

 سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے  کہا کہ یمن کے امن کے لیے مذاکرات ہی واحد حل ہیں، یواےای کا یمنی جنوبی عبوری کونسل پر دباؤ ڈال کرکارروائیوں پر آمادہ کرنا افسوسناک ہے، یہ اقدام ہماری قومی سلامتی اورجمہوریہ یمن کےامن سمیت پورے خطےکے لیےخطرہ ہے۔

 سعودی عرب کے چوبیس گھنٹے میں یمن سے فوج واپس بلانے کے مطالبہ پر مشتمل اس بیان پر یو اے ای کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا کہ سعودی عرب کے بیان  سے مایوسی ہوئی ہے، یمن سے متعلق تمام الزامات مسترد کرتے ہیں۔

 متحد ہ عرب امارات کی طرف سے کہا گیا ہے  کہ مکلا بندرگاہ پر لنگرانداز ہونے والے جہازوں پر اسلحہ نہیں تھا، بندرگاہ پر جہاز یمنی گروپ کے لیے نہیں  بلکہ وہاں موجود اماراتی فورسز کے لیے گئےتھے،  یمن میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سے ذمہ داری سے نمٹنا چاہیے۔ یو اے ای کی جانب سے  کہا گیا ہے کہ یمن کی حالیہ صورتحال کو مزید کشیدہ نہیں ہونے دینا چاہیے، سعودی اتحادی فورسز کا یمن میں حملہ حیران کُن تھا۔

 اس دوران ایک اہم ڈیویلپمنٹ یہ بھی ہوئی ہے کہ یمن نے  یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔  عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق رشاد العلیمی نے کہا کہ یمن میں موجود یو اے ای کی تمام فورسز کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنا ہوگا۔

 انہوں نے کہا  کہ یمن کی تمام بندرگاہوں اور زمینی و بحری گزرگاہوں پر 72 گھنٹوں کے لیے مکمل فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی نافذ کی جا رہی ہے۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن کی صدارتی کونسل کی جانب سے یہ احکامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی قیادت میں قائم ملٹری اتحاد نے یمن میں محدود فضائی کارروائی کی، جس میں مکلا بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا۔

 یمن میں صدارتی کونسل سعودی عرب کی حمایت سے کام کرتی ہے اور یمن کے حوثی باغی اس کے خلاف پہلے سے لڑ رہے ہیں اور یمن کے کئی علاقوں پر عملاً قابض ہیں۔