(ویب ڈیسک) بھارت کی سیاسی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ بھارتی حج کمیٹی عازمین حج سے فرق شدہ ہوائی کرایہ کے نام پر اضافی 10000 بھارتی روپے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ ’’کیا حج کمیٹی کے ذریعے جانے پر عازمین کو سزا دی جا رہی ہے؟‘‘ یہ سوائے استحصال کے اور کچھ نہیں۔
اسد الدین اویسی کی جانب سے ’ایکس‘ پر جاری کردہ ایک پیغام میں ’’عازمین حج سے 10 ہزار روپے اضافی کرایے وصول کیے جانے کے متعلق حکومت کی جانب سے جاری سرکلر پر اسد الدین اویسی کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ اںہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سرکلر کی کاپی شیئر کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے پوسٹ میں لکھا کہ ’’ حج کمیٹی عازمین حج سے ’ فرق شدہ ہوائی کرایہ‘ کے نام پر اضافی 10000 بھارتی روپے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ یہ تب ہو رہا ہے جب 2 ماہ قبل ہی ممبئی ایمبارکیشن پوائنٹ سے ہر عازم سے 90 ہزار 844 وصول کیے جا چکے ہیں۔ یہ رقم انفرادی مسافروں کے لیے موجودہ کرایوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔
The Haj Committee is demanding an additional ₹10,000 from Haj pilgrims as “differential airfare.” This is despite collecting ₹90,844 per pilgrim a couple of months ago departing from Mumbai Embarkation Point. This is almost DOUBLE the prevalent rates for individual travellers.… pic.twitter.com/k6xUYkFAsK
— Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) April 30, 2026
اسد الدین اویسی اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’کیا حج کمیٹی کے ذریعے جانے پر عازمین کو سزا دی جا رہی ہے؟ یہ سوائے استحصال کے اور کچھ نہیں۔ زیادہ تر عازمین امیر نہیں ہوتے، وہ برسوں تک پیسے جمع کرتے ہیں تاکہ حج پر جا سکیں۔ یہ ان کے لیے کوئی عیش و آرام کی چیز نہیں ہے۔ اس سرکلر کو فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے اور عازمین سے وصول کی گئی رقم انہیں واپس کی جانی چاہیے۔‘‘
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث حکومت کی طرف سے عازمین حج کے لیے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ وزارت اقلیتی امور کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس میں بتایا گیا کہ 2026 میں حج کے سفر پر جانے والے مسافروں کو اضافی 10 ہزار روپے جمع کروانے ہوں گے۔ تمام مسافروں کو 15 مئی تک اس رقم کی ادائیگی کرنی ہوگی۔