کومل اسلم : پنجاب حکومت نے 2025 میں محکمہ بہبود آبادی کو محکمہ پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر میں ضم کر کے "محکمہ صحت و بہبود آبادی" تشکیل دیا۔ اس اقدام کا مقصد وسائل کا مؤثر استعمال اور آبادی کے مسائل کا جامع حل فراہم کرنا تھا۔
اطلاعات کے مطابق، نئے مالی سال 2024-25 کی سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں محکمہ بہبود آبادی کے لیے کوئی نئی اسکیم شامل نہیں کی گئی۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ انضمام کے بعد محکمہ بہبود آبادی کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔
اگرچہ حکومت نے "چیف منسٹر پاپولیشن مینجمنٹ اینڈ فیملی پلاننگ پروگرام" کے تحت ایک ارب روپے کی اسکیم کا آغاز کیا ہے، جس میں میڈیا مہمات، سوشل میڈیا پر آگاہی، اور نوجوانوں کی شمولیت شامل ہے، لیکن یہ اسکیمیں بنیادی طور پر آگاہی پر مرکوز ہیں اور محکمہ بہبود آبادی کی بنیادی خدمات اور منصوبوں کی بحالی کے لیے کوئی واضح حکمت عملی نظر نہیں آتی۔
محکمہ بہبود آبادی کے ملازمین کے روزگار کے تحفظ کے حوالے سے حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ انضمام کے بعد کسی بھی ملازم کو برطرف نہیں کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ بہبود آبادی کی خود مختاری اور اختیارات کو بحال نہ کیا گیا تو آبادی کے کنٹرول کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت محکمہ بہبود آبادی کے لیے نئی اسکیمیں متعارف کرائے اور اس کے اختیارات کو واضح کرے تاکہ آبادی کے مسائل کا مؤثر حل ممکن ہو سکے۔