ویب ڈیسک : امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کے زیادہ تر درآمدی محصولات کو لاگو ہونے سے روک دیا ہے
عدالت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ امریکی صدر نے عالمی سطح پر عائد ٹیکسوں کے ساتھ اپنے اختیار سے بھی تجاوز کیا ہے۔
یہ فیصلہ ریپبلکن رہنما کے لیے ایک اہم دھچکا ہے کیونکہ وہ سخت نئے محصولات کے ذریعے حکومتوں کو مذاکرات کی میز پر مجبور کر کے دنیا کے ساتھ امریکی تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ ٹرمپ کی عالمی تجارتی جنگ نے مالیاتی منڈیوں میں ٹیکسوں کے سٹاپ سٹارٹ رول آؤٹ کے ساتھ ہلچل مچا دی تھی۔
عالمی تجارتی جنگ کا مقصد ایسی معیشتوں کو سزا دینا ہے جو امریکہ کو اپنی مصنوعات زیادہ سے زیادہ فروخت کر رہی تھیں۔
وائٹ ہاؤس نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ "غیر منتخب ججوں" کو ٹرمپ کے معاملے میں دخل اندازی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ نے وفاقی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر کر دی ہے۔