ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب میں خواتین کو تحفظ کے ساتھ رزق کمانے کے مواقع دیئے جارہے ہیں: مریم نواز

پنجاب میں خواتین کو تحفظ کے ساتھ رزق کمانے کے مواقع دیئے جارہے ہیں: مریم نواز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے کہا ہے کہ خواتین کی خود مختاری، طاقت اورصلاحیت میرے دل کے قریب ہے، پنجاب میں خواتین کو تحفظ کے ساتھ رزق کمانے کے مواقع دیئے جارہے ہیں۔ 

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے عالمی یوم خواتین پر ”ہم لیڈرایوارڈ“ کی تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ ویمن لیڈر ایوارڈ تقریب سے خطاب میں شرکت میرے لئے باعث فخر ہے،شکریہ اد اکرتی ہوں۔ خواتین کی خود مختاری، طاقت اورصلاحیت میرے دل کے قریب ہے۔ ایوارڈ حاصل کرنے والی خواتین کو سلیوٹ پیش کرتی ہوں، عورت کے لئے خودمختاری کا سفر آسان نہیں۔ میرا سفر بھی بحیثیت عورت دوسروں سے زیادہ مختلف نہیں، دور سے سب اچھا لگتا ہے لیکن ایسا بالکل نہیں ہوتا۔ مخصوص مائنڈ سیٹ سے لڑکر سامنے آئی اوراپنے آپ کو منوایا۔ انہوں نے کہا کہ جدید جہد کرنیوالی خواتین دوسروں کے لئے رول ماڈل بن سکتی ہیں۔ پنجاب بلکہ پاکستان کی پہلی سی ایم بننے کا اعزاز حاصل کیا، سی ایم بننا ہر ماں،بہن اوربیٹی کیلئے اعزاز ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ آج لوگ کہتے ہیں پنجاب اچھا پرفارم کررہا ہے کیوں پرفارم کررہا ہے اس کے پیچھے محنت ہیں۔ اللہ تعالی نے جب محبت کی مثال دی تو کہا کہ میں 70ماؤں سے زیادہ پیارکرتا ہوں۔ سلطانہ آپا جیسے عظیم خواتین کے بچے ان کی قدرکرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کتنی قربانیاں دی گئی ہیں۔ پنجاب 12کروڑ عوام کا صوبہ ہے،جہاں گلی،محلو ں،سڑکوں کی صفائی اورانفراسٹرکچر کو بہتر کیا جا رہاہے۔ 

مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں خواتین کو تحفظ کے ساتھ رزق کمانے کے مواقع دیئے جارہے ہیں۔ پنجاب کی سڑکیں اورپارک سجے دیکھ کر ایسی خوش ہوتی ہوں جیسے ماں خوش ہوتی ہے۔ کسی چھوٹے سے شہر میں چھوٹا سا پارک بھی بن جائے تو خوشی کی انتہاء نہیں رہتی۔ بہت مراعات یافتہ اوراچھے گھرسے تعلق ہونے کے باوجود میرے والد مشرقی روایات کے امین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈری سہمی لڑکی کا سی ایم بننا آسان سفر نہیں،کرسی تک پہنچنا آسان نہیں تھا،میری جہدوجہد کے سفر کو لوگ نہیں جانتے۔ اڈیالہ جیل میں تھی تو پتہ نہیں تھا کہ میرا جرم کیا ہے۔ آفس میں سی ایم ہوتی ہوں لیکن گھر میں ایک ماں ہوتی ہوں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ مرد حضرات بہت محنت کرتے ہیں مگر خواتین بیک وقت کئی امور کو متوازی لے کر چلتی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہرجماعت، سیاسی جماعت پر مردوں کی اجارا داری ہے۔مردوں کی اجارداری کے معاشرے میں سی ایم بننے کا سوچ نہیں سکتی تھی۔ والد اورچچا وزیراعلیٰ وزیراعظم کے عہدوں پر بارہا فائز رہے۔ 
تین مرتبہ پرائم منسٹر اورتین مرتبہ وزیراعلیٰ کی بھتیجی ہونا اعزاز تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ مشکل بھی بہت تھا۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے شہروں میں جائیں تو بچے مجھے سب کی ماں کہتے ہیں۔ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے سکول میں زیر تعلیم دو بچوں کی نانی بھی ہوں۔ 

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پارٹی کے لوگ کہتے تھے کہ مریم نواز صوبہ کیسے چلائے گی، بڑے کہتے تھے کہ مریم نوازکیسے بگڑے ہوئے نظام کو ٹھیک کرے گی۔ آج فخر سے کہہ سکتی ہوں کہ لیڈر شپ صنفی امتیاز سے ماورا ہوتی ہے۔ ایک خاتون ہو کر صوبے کی اکانامی،زراعت اورانفراسٹرکچر اورپولیس سمیت دیگر محکمے چلا رہی ہوں۔ بچیوں کو کوئی کہہ کہ آپ کسی سے کم ہے تو یقین نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ والد،بھائی اورشوہر کہتے ہیں کہ عورت کے سر پر عزت کا بوجھ ہے۔ عورت پر اعتماد کریں گے تو وہ وہ کچھ کردکھائے گی جو آپ سوچ نہیں سکتے۔ کوئی ظلم ہوجائے تو بچی ڈر کے مارے بتانہیں سکتی، جس سے زیادتی ہو،اس کے سر پر ہاتھ رکھا جائے۔ میرے والدمجھے کہتے تھے گھبرانا نہیں میں تمہارے پیچھے کھڑا ہوں، والدین ساتھ ہیں تو بیٹیاں وہ کامیابیاں لائیں گی جس پرسر فخر سے بلند ہوگا۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ آج پنجاب میں وزیراعلیٰ،چیف جسٹس،وزراء،سیکرٹریز،کمشنر،ڈپٹی کمشنر اورڈی پی اوخواتین ہے۔ خواتین پاک فوج، ایئراورنیوی میں آرہی ہیں، ڈاکٹر بن رہی ہیں،دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے۔ کسی سکیم میں خواتین کا کوٹہ نہیں رکھا اوپن میرٹ پر جتنی بھی آجائے۔ وسائل سے محروم بچوں کوہونہار سکالرشپ دے رہے ہیں۔ گرین بسوں میں لیڈز ڈیپارٹمنٹ الگ ہے خواتین سے کوئی کرایہ نہیں لیا جاتا۔ خواتین بزنس کرتی ہیں،ملازمت کرتی ہیں اورمحنت کرتی ہیں۔ مریم اورنگزیب،عظمیٰ بخاری،ثانیہ عاشق اورسلمیٰ بٹ شاندار کام کررہی ہیں۔ میں کہتی ہوں کہ میرٹ کا کوئی جینڈر نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بچیوں کو ہراسانی جیسے واقعات سے محفوظ رکھنے کیلئے ورچوئل پولیس سٹیشن قائم کیے۔ خواتین کے لئے تھانے جانا تکلیف دہ ہوتا ہے، ویڈیو کال کرسکتی ہیں۔ پینک بٹن لگائے جہاں صرف بٹن دبانے پر پولیس پہنچ جاتی ہے۔ انہوں نے  کہا کہ ٹرین میں بچی کو ہراساں کرنے کی اطلاع پر ملزم کو اگلے ہی سٹیشن پر پولیس نے گرفتار کرلیا۔ لاہور کے بازاروں تجاوزات ختم کرکے وسیع کیا تاکہ خواتین کو ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سی سی ٹی وی کیمرے کی مدد سے بھی مانیٹرنگ پر خواتین کی مدد کی جاتی ہے۔پنجاب کی خاتون اب خود کومحفوظ تصورکرتی ہے، سیف سٹی کے ذریعے متعد دبچیوں کوبلیک میلنگ سے تحفظ فراہم کیاگیا۔ عور ت کے آنے سے پنجاب میں فرق پڑا ہے۔بیٹیوں سے کہتی ہوں کہ کبھی نہ سوچیں کہ کسی چیز کی کمی ہے اورمردحضرات سے کہتی ہوں کہ عورت پر بھروسہ کریں۔ بیٹیوں سے کہتی ہوں کہ گھبرانانہیں میں آپ کو سپورٹ کروں گی اورآپ کے خواب پورے کروں گی۔ 

وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے وویمن لیڈر ایوارڈ حاصل کرنے والی خواتین یاسمین قریشی،انیس ہارون،جہاں آرااورمائی جنداکو ایوارڈ دیئے۔