ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فلسطین کو تسلیم کرنے سے حماس کو فائدہ پہنچے گا ، صدر ٹرمپ کی انگلینڈ پر تنقید

Prime Minister Care Stormer and President Trump, Palestine , Two state solution, Israel Hamas conflict, city42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: صدر ڈونلڈ  ٹرمپ نے کہا ہے کہ انگلینڈ کے فلسطین کو تسلیم کرنے سے حماس کو فائدہ پہنچے گا اور یہ حماس کو انعام دینے کے مترادف ہو گا۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے پرائم منسٹر سٹارمر کے ساتھ اس معاملے پر  کوئی بات نہیں کی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ انہوں نے اور برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے برطانیہ کے منصوبے پر تب تک بات نہیں کی۔

انگلینڈ کے پرائم منسٹر کئیر سٹارمر نے آج یہ دھمکی دی کہ اگر  اسرائیل فلسطینیوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات نہیں کرےگا، غزہ میں جنگ بند نہیں کرے گا تو سٹارمر کی حکومت انگلینڈ کی طرف سے فلسطین کو ااذاد ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر لے گی، کئیر سٹارمر نے دھمکی دی کہ انگلینڈ ستمبر مین یہ اقدام کر سکتا ہے، دوسرے لفظوں میں سٹارمر نے  غزہ میں جنگ بند کرنے کے لئے اسرائیل ک یحکومت کو ایک ماہ کی مہلت دی۔ جنگ بند کرنے میں ناکامی کا نتیجہ انگلینڈ کی دیرینہ پالیسی مین ایک سو اسی ڈگری کے بدلاؤ کی صورت مین نکل سکتا ہے۔ پرائم منسٹر سٹارمر کا یہ التی میٹم دنیا کے لئے بریکنگ نیوز ثابت ہوا، اس کے بعد  صدر ٹرمپ نے انگلینڈ سے واپسی کے دوران اپنے طیارے  ایئر فورس ون میں موجود صحافیوں کو بتایا کہ ان کی اس موضوع پر انگلینڈ کے پرائم منسٹر سے کوئی بات ہی نہیں ہوئی۔  ٹرمپ کے الفاظ تھے، "ہم نے کبھی اس پر بات نہیں کی۔" 

سٹارمر کے خلاف بات کرنے سے گریز  کرتے ہوئے، صدر ٹرمپ نے یہ بہرحال کہا،  میں حماس کو انعام دینے جیسے اقدامات پر تنقید کرتا ہوں، اور مزید کہا کہ "میں اس کیمپ میں نہیں ہوں۔"

فرانس اور اب برطانیہ کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کہتے ہیں، ’’اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ واقعی حماس کو انعام دے رہے ہیں۔‘‘ "میں ایسا کرنے والا نہیں ہوں۔"

صدر ٹرمپ نے کہا،  انہوں نے دو دن پہلے نیتن یاہو سے بات کی تھی اور غزہ کے لوگوں کو خوراک تقسیم کرنے کی اسرائیل کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، اس کے باوجود کہ اس کی انسانی ہمدردی کی کوششوں پر وسیع پیمانے پر تنقید کی گئی ہے۔

"وہ خوراک کے مراکز کی نگرانی کرنا چاہتے ہیں، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ تقسیم مناسب ہو،" وہ کہتے ہیں۔ "میرے خیال میں اسرائیل یہ کرنا چاہتا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ حماس پیسے چوری کرے یا کھانا چوری کرے۔"

"انہیں کھانے کی ضرورت ہے اور انہیں لوگوں کی ضرورت ہے کہ وہ ان سے کھانا حاصل کر سکیں" ۔