ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

چین:ہنی ٹریب اور کرپٹو کرنسی فراڈ کرنیوالے ایک خاندان کے 11 افراد کو پھانسی

چین:ہنی ٹریب اور کرپٹو کرنسی فراڈ کرنیوالے ایک خاندان کے 11 افراد کو پھانسی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) چین میں میانمار کے ایک بدنام مافیا خاندان کے 11 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے۔ یہ مافیا خاندان رومانس کا ریکٹ چلاتا تھا۔ یہ ریکٹ جسم فروشی سے لے کر آن لائن دھوکہ دہی اور قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث تھا۔ یہ گینگ انٹرنیٹ کے ذریعے فرضی محبت کی کہانیوں میں لوگوں کو پھنسا کر کرپٹو کرنسی فراڈ کرتا تھا۔ یہ مافیا لوگوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر بلاتا، پھر انہیں قید کر لیتا اور انہی سے ریکٹ میں کام کرواتا تھا۔ میانمار کے ایسے ہی ایک ریکٹ میں 270 سے زائد بھارتی شہری پھنس چکے ہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق چین نے میانمار کے بدنام زمانہ مافیا مِنگ خاندان کے 11 افراد کو پھانسی دے دی ہے، جو فرضی آن لائن محبت کی کہانیوں کے ذریعے لوگوں کو لوٹنے کے لیے مشہور تھا۔ مِنگ خاندان کے ان افراد کو ستمبر میں مشرقی چین کے شہر وینژو کی ایک عدالت نے سزائے موت سنائی تھی اور اسی عدالت نے جمعرات کو پھانسی پر عمل درآمد کیا۔خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق انہیں ’’قتل، تشدد، غیر قانونی حراست، دھوکہ دہی اور کیسینو‘‘ جیسے جرائم میں مجرم پایا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق، اس گینگ نے کم از کم 14 چینی شہریوں کو قتل کیا تھا اور بے شمار لوگوں کو معذور بنا دیا تھا۔یہ محض ایک دھوکہ بازی نہیں بلکہ انسانی غلامی کا ایک اڈہ تھا۔ میانمار کے لاوکائنگ علاقے میں یہ لوگ ’لو اسکیم‘ اور ’کرپٹو لوٹ‘ کا جال بچھاتے تھے۔ انٹرنیٹ پر معصوم لوگوں کو محبت کے جال میں پھنسایا جاتا تھا۔فرضی سرمایہ کاری کے ذریعے ان کی عمر بھر کی کمائی ہڑپ لی جاتی تھی۔جو لوگ ان کے لیے کام کرنے سے انکار کرتے، انہیں یرغمال بنا کر بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس گینگ کا سرغنہ چن ژی لندن میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا تھا۔ لندن کے پوش علاقے ’ایونیو روڈ‘ میں اس کی ایک شاندار حویلی تھی جس کی قیمت تقریباً 120 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ فنچرچ اسٹریٹ پر اس کے نام پر 100 ملین یورو کی دفتری عمارتیں اور درجنوں فلیٹس بھی تھے۔ برطانوی حکومت نے اس مافیا کی تمام جائیدادیں ضبط کر لی ہیں تاکہ ’گندا پیسہ‘ سڑکوں سے ہٹایا جا سکے۔ ’ڈیجیٹل غلامی‘ کا ریکٹ مِنگ خاندان چلاتا تھا، ویسے ہی میانمار کے ایسے ریکٹس میں 270 بھارتی پھنس چکے ہیں۔ بھارت میں ہونیوالے زیادہ تر ’ڈیجیٹل گرفتاری‘ اور ’منی لانڈرنگ‘ اسکیمز کے تانے بانے انہی میانمار اور کمبوڈیا کے مراکز سے جڑے ہیں۔ میانمار کے ان ’اسکیم سینٹرز‘ میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے بھارتی حکومت نے بڑے پیمانے پر مہمات چلائی ہیں۔

نومبر 2025  میں بھارتی جہاز تھائی لینڈ کے راستے 270 بھارتیوں  کو واپس لایا۔ یہ لوگ میانمار کے بدنام مراکز جیسے ’کے کے پارک‘ سے جان بچا کر نکلے تھے۔مارچ 2025 میں بھی 549 بھارتیوں کو میانمارتھائی لینڈ سرحد سے ریسکیو کیا گیا تھا۔ہزاروں بھارتی شہریوں  کو ’آئی ٹی نوکری‘ کے نام پر تھائی لینڈ بلایا جاتا ہے، پھر انہیں اغوا کر کے میانمار کے ان عقوبت خانوں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ وہاں پہنچنے کے بعد ان کے پاسپورٹ چھین لیے جاتے ہیں اور انہیں ’پگ بچرنگ‘ اسکیمز، رومانس اور کرپٹو کے لالچ دے کر لوٹ مار کی اسکیمز چلانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ جو انکار کرتے ہیں، انہیں بجلی کے جھٹکے دیے جاتے ہیں۔