(سٹی 42)پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ ابھی بھی جنگ نہیں ہوگی،ہم پاکستان سمیت کسی ملک سے اپنی حمایت میں جنگ میں کودنے کا مطالبہ نہیں کرتے،28 دسمبر کو غیرملکی کرنسی کی قدر میں اضافہ کے بعد پرامن مظاہرے شروع ہوئے،مرکزی و صوبائی حکومتوں نے تہران اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرین سے مذاکرات کیے،امریکہ و اسرائیل نے ان مظاہروں کو دوسرا رنگ دینے کی کوشیش کی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے آج اسلام آباد میں صحافیوں کو ایران کی موجودہ صورتحال کے حوالے سےبریفنگ دی ، جس میں ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں اور مظاہروں کی آڑ میں تخریب کاری پر دستاویزی ویڈیو چلائی گئی،دستاویزی ویڈیو میں شر پسند عناصر کو احتجاج کو ہائی جیک کرتے اور تخریبی سرگرمیوں میں بدلتے دکھایا گیا ہے۔ بریفنگ میں رضا امیری مقدم نے بتایا کہ ہمارے میڈیا نے 12 روزہ جنگ کے بعد ہمارے خلاف ہونے والی سازش کو بے نقاب کیا۔ایرانی حکومت نے مارکیٹ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہویے افراط زر میں کمی کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔28 دسمبر کو غیرملکی کرنسی کی قدر میں اضافہ کے بعد پرامن مظاہرے شروع ہوئے۔مرکزی و صوبائی حکومتوں نے تہران اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرین سے مذاکرات کیے۔امریکہ و اسرائیل نے ان مظاہروں کو دوسرا رنگ دینے کی کوشیش کی۔
ایرانی سفیر کا کہنا تھا جنوری 9 کو حکومت اور مملکت ایرانی لوگوں نے بڑے اجتماعات حکومت کی حمایت میں منعقد کیے،امریکی صدر نے پھر ٹویٹ کیا کہ مدد آ رہی ہے شرپسند حکومتی و انتظامی دفاتر پر قبضہ کر لیں، انہیں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناے کی ہدایت کی گئی،بڑی تعداد میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس پر حملے ہوئے،2497 سویلین وعام شہریوں کی جانیں گئیں،3117 سے زائد سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو شہید کیا گیا ۔جبکہ 690 دہشت گرد مارے گئے۔پرتشدد اور دہشت گردانہ حملوں میں 305 ایمبولینسز اور بسیں، 24 گیس اسٹیشنز تباہ کردئیے گئے،دہشت گردانہ کارروائیوں میں 700 کنوینینس اسٹورز، 300 نجی مکانات اور 750 بینکوں کو نشانہ بنایا گیا،پرتشدد ہجوم نے 414 سرکاری عمارتوں اور 749 پولیس اسٹیشنز تباہ کردئیے،دہشت گردانہ واقعات میں 120 بسیج مراکز، 200 اسکولوں اور 350 مساجد کو نشانہ بنایا گیا،دہشت گردانہ حملوں میں 15 لائبریریوں، 2 آرمینیائی گرجا گھروں اور 253 بس اسٹیشنوں کو تباہ کردئیے گئےدہشت گردانہ حملوں میں 600 اے ٹی ایمز اور 800 موٹر کاروں کو بھی تباہ کردئیے۔ امریکہ مظاہروں کے دوران بھی ایران میں مداخلت چاہتا تھا،ہماری مسلح افواج کے اپنے منصوبے ہیں اور وہ اپنا جواب دیں گی،چند ماہ قبل بھی جب ہم مذاکرات کر رہے تھے، مذاکرات کے وسط میں ہم پر حملہ کیا گیا،جب تک فریقین تیار نہ ہوں تب تک کوئی ثالث ان کو میز پر نہیں لا سکتا۔
رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان سمیت کسی ملک سے اپنی حمایت میں جنگ میں کودنے کا مطالبہ نہیں کرتے،وہ اپنے فرائض ادا کرتے رہیں،حالیہ مظاہروں میں بہت سے شرپسندوں کو گرفتار کیا گیا،ہم امریکی دھونس دھاندلی کو تسلیم نہیں کریں گے،ہمارے دوست جیسے ہمیں سپورٹ کرنا چاہیں کرین مگر ہم کسی کے پاس نہیں جائیں گے،ہم جنگ نہیں چاہتے تاہم اپنا دفاع کریں گےتمام ممالک جو ہم سے رابطے میں ہیں وہ جنگ روکنے کے لئے ہیں،ہم پاکستان کی ابھی تک حمایت اور جنگ روکنے کی کوششوں پر مشکور ہیں،ہم ان واقعات سے پہلے بھی پاکستان سے مشاورت میں تھے،ہماری رپورٹس کے مطابق بھارت اور افغان شہریوں کے اپنی حکومتوں کی پشت پناہی سے ایران مخالف شرپسندی میں ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ایرانی انٹیلی جنس کو متعدد ممالک کا سامنا ہےہماری سیکیورٹی و انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ملک کے دفاع کے لیے اپنے منصوبے ہیں،ہم جنگ سے بچنے کی کوششیں کر رہے ہیں،تاہم ان کو شیشوں کی کامیابی کا 50 فیصد ہمارے اور باقی فریق مخالف کے ہاتھ میں ہے،امید ہے کہ ابھی بھی جنگ نہیں ہوگی،اگر مارکو روبیو نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ایران اور وینزویلا میں فرق ہے تو یہ اچھی بات ہے۔
ایرانی سفیر کا پریس بریفنگ میں کہنا تھا کہ ایران میں صورتحال بالکل معمول کے مطابق ہے،ہمارے ملک میں کسی قسم کی کوئی بے چینی نہیں ہے،ایرانی عوام کی اقتصادی مشکلات میں کمی کیلئے ایرانی حکومت تمام اقدامات کر رہی ہے،پاکستان سمیت کسی بھی ملک کی جنگ روکنے کی کوشیش کا خیرمقدم کریں گے،ہم کسی بھی ثالث سے درخواست کریں گے کہ وہ فریق مخالف پر توجہ دے تاکہ سب کے لیے جیت کی صورتحال ہو۔
ایرانی سپریم راہنما آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کی دھمکیوں اور ایران کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم کو ممکنہ نشانہ بنانے کا سوال پر ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی سپریم راہنماء کو دھمکی باعث شرم ہے،
کسی بھی ملک کے سربراہ کو قتل کی دھمکی یا کوشیش عالمی قوانین کے خلاف ہے،عالمی قوانین کے تحت کسی بھی سربراہ مملکت کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا،ہم کسی ریاست کے سربراہ کے خلاف کوئی عزائم نہیں رکھتے،ایران میں گرفتار شدہ شرپسندوں اور امریکی و اسرائیلی ایجنٹوں کے ساتھ ایرانی قانون کے مطابق سلوک ہو گا،ہم پاکستان سعودی عرب باہمی دفاعی معاہدے اور کسی بھی مسلم اتحاد کی سپورٹ کرتے ہیں۔