سٹی42: جھنگ میں ریواز برج کے قریب دھماکا کر کے شگاف لگادیا گیا۔ شگاف سے پانی قریبی دیہات میں پھیلے گا اور تریموں ہیڈ ورکس پر دباؤ کم ہوسکے گا جبکہ شگاف کے بعد پانی جھنگ چنیوٹ روڈ پر آگیا جس سے سڑک ڈوب گئی۔
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں دریائے راوی کی طغیانی نے خطرناک صورتحال پیدا کر دی، راوی کنارے کی کئی بستیاں زیر آب آ گئیں جبکہ بھارت سے آج شام ایک اور سیلابی ریلا دریائے چناب اور راوی میں داخل ہونے کا امکان ہے جس کے باعث سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا جبکہ آج پنجاب سمیت ملک بھر میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے جس سے سیلابی صورتحال بدتر ہو سکتی ہے۔
راوی، چناب اور ستلج میں شدید سیلابی کیفیت نے لاہور، قصور، جھنگ، سیالکوٹ، منڈی بہاؤالدین، گوجرانوالہ، بہاولنگر اور دیگر اضلاع کو متاثر کیا ہے۔ لاہور کے نواحی علاقے بھی راوی کے سیلابی پانی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں، جہاں سینکڑوں گھر خالی کرا لیے گئے ہیں جبکہ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ نارنگ منڈی، قصور، جھنگ، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین، بہاولنگر سمیت کئی اضلاع شدید متاثر ہوئے ہیں۔
بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑنے کے بعد آج شام ایک اور سیلابی ریلا دریائے چناب میں داخل ہونے کا امکان ہے جس کے باعث ہیڈ تریموں بیراج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا متوقع ہے۔2 ستمبر کو ہیڈ پنجند پر بھی خطرناک صورتحال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
حکومتی اقدامات کے تحت فلڈ الرٹ جاری، تمام ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ پی ڈی ایم اے اور فوجی دستے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور متاثرہ علاقوں میں خوراک، پانی اور ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کو ایک ہفتے کیلئے بند رکھنے پر بھی غور کیا جارہا ہے جبکہ ننکانہ، شیخوپورہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دریائی بیلٹ کے علاقوں کو فوری خالی کرانے کی ہدایات دے دی گئی ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ اب تک سیلاب سے 20 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، آبی گزرگاہوں کو خالی کرنا پڑے گا، اگر پانی کی گزرگاہوں کو خالی نہ کیا تو وہی ہوگا جو ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قدرت نے اب ایکشن لے لیا ہے، فلڈ پلین ایکٹ پر عمل کرایا جائے گا، وزیراعلیٰ کے واضح احکامات ہیں کہ پانی کی گزر گاہوں کو فوری خالی کرایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھے بغیر کوئی بھی ترقیاتی کام کریں گے تو اس میں نقصان اٹھائیں گے۔