ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

خواجہ سراؤں کی جانب سے روایتی’مبارکباد کی ویلیں‘مانگنا ناجائزقرار

خواجہ سراؤں کی جانب سے روایتی’مبارکباد کی ویلیں‘مانگنا ناجائزقرار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت  کے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے منگل کے روز ایک اہم فیصلے میں کہا کہ خواجہ سرا برادری کے افراد کو روایتی ’ مبارکبادی‘ یا ’ویلیں‘ (خوشی کے مواقع پر دئیے جانے والے نقد تحائف) مانگنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایسے مطالبات کرنا جرم مانا جا سکتا ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی روپورٹ کے  مطابق ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے جسٹس آلوک ماتھور اور امیتابھ کمار رائے نے یہ حکم گونڈا ضلع کی ایک خواجہ سرا ریکھا دیوی کی طرف سے دائر رٹ پٹیشن کو خارج کرتے ہوئے جاری کیا۔ اپنی درخواست میں ریکھا دیوی نے ’ویلیں‘ (تحائف) پانے کے لیے ایک خاص علاقے کو خود کے لیے ریزرویشن کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

عرضی گزارخواجہ سرا ریکھا دیوی نے مخصوص علاقوں جن میں قصبہ جرول کے ’کاٹی کا پل‘ سے ’گھاگھرا گھاٹ‘ اور کرنیل گنج کے ’سریو پل‘ تک کے علاقے کو اپنے لیے مخصوص علاقے کے طور پر ریزرو کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ کئی سالوں سے ان علاقوں سے ’ویلیں‘ لیتی رہی ہے۔ اس کے وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ جب اسکی برادری کے دیگر افراد علاقے کا دورہ کرتے ہیں تو اکثر جھگڑے اور جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ دیرینہ رواج ایک روایتی حق بن چکا ہے۔ تاہم عدالت نے اس درخواست کو خارج کر دیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ کوئی بھی لیوی، ٹیکس یا فیس صرف قانون کے تحت ہی وصول کی جا سکتی ہے۔ ’مبارکباد‘ یا ’ویلیوں‘ کے نام پر پیسے لینے کی روایت کو قانون کی کوئی منظوری نہیں ہے۔
 الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی شخص سے جان بوجھ کر یا کسی بھی طریقے سے رقم وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کسی بھی شہری کو صرف وہی رقم ادا کرنے کی ہدایت کی جا سکتی ہے جو قانون کے مطابق جائز ہو۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ خواجہ سرا شخص تحفظ برائے حقوق ایکٹ 2019 اس طرح کے کسی حق کا کو التزام نہیں کیا گیا ہے۔
لکھنؤ بنچ نےدرخواست کو خارج کرتے ہوئے  کہا کہ اسطرح کی درخواست کو منظور کرنے کا مطلب ہوگا کہ غیر قانونی وصولی کو قانونی شکل دینا ہے جس سے مجرمانہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کی وصولی کو کبھی بھی قانون کے ذریعہ جائز قرار نہیں دیا گیا ہے۔