اسرائیل کے بیشتر شہریوں اور دنیا کی مخالفت کے باوجود غزہ سٹی پر فوج کشی کر کے حماس کے خاتمہ کی حتمی جنگ لڑنے کے دعویدار نیتن یاہو نے حماس کو "محفوظ راستہ" دینے کا اعلان کر دیا۔
نیتن یاہو کا یہ اعلان ان کی غزہ کے تمام علاقوں پر فوجی قبضہ کرنے اور اس کے لئے یرغمالیوں کی سیفٹی کو بھی نطر انداز کر دینے کی متنازعہ پالیسی کے برعکس ہے۔ نیتن یاہو کو اسرائیل کے اندر شہریوں کی اکثریت نے غزہ سٹی میں جنگی کارروائیاں بڑھانے سے روکا اور دنیا نے بھی اس پالیسی کی سخت مخالفت کی لیکن نیتن یاہو نے غزہ سٹی مین سخت محاصرہ کر کے جنگی کارروائیاں کرنے کا آغاز کیا اور یہ اب بھی جاری ہے۔
آج اچانک اپنے اعلانیہ مؤقف سے یو ٹرن لیتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ وہ حماس کے کارکنوں کو زندہ نکل جانے کے لئے محفوظ راستہ دے دیں گے۔
غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کے 21 نکاتی منصوبے کے بارے میں فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے یہ بتا کر حیران کر دیا کہ اسرائیل حماس کے ارکان کو محفوظ راستہ دے گا اگر وہ جنگ ختم کر دیں اور تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیں۔ اس کے ساتھ ہی نیتن یاہو نے جنگ ک ختم ہونے کے بعد ے بعد غزہ کے ایک قابل عمل حکمران کے طور پر فلسطینی اتھارٹی کو قبول کرنے سے ایک بار پھر انکار کیا۔
کل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی منصوبہ بند ملاقات سے پہلے، نیتن یاہو نے فوکس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں کہا، "اس کی تفصیلات پر کام کرنا ہوگا،"
فوکس نیوز کے ساتھ نیتن یاہو کے اس انترویو کی خاص بات یہ ہی ہے کہ انہوں نے کہا، "اگر حماس کے رہنما جنگ ختم کر دیتے ہیں، تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیتے ہیں، ہم انہیں چھوڑ دیں گے۔"
"یہ وہ چیز ہے جو میں نے ماضی میں کہی ہے، لیکن اس پر کام کرنا ہوگا۔ میرے خیال میں یہ سب منصوبے کا حصہ ہے۔ " وہ مزید کہتے ہیں۔
نیتن یاہو نے جنگ کے بعد غزہ پر فلسطینی اتھارٹی کی اتھارٹی قائم کرنے کے خلاف اپنی دیرینہ مخالفت کا بھی اعادہ کیا - یہ موقف انہوں نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی سختی سے دہرایا تھا۔ اس کا دوسرا مطلب دراصل غزہ پر اسرائیل کے قبضہ کے سوا کسی آپشن کو جگہ نہ دینا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے متعلق نیتن یاہو صلاحیت پر شک کرنے کے سوا کوئی ٹھوس خرابی نہیں بتاتے ہوئے، وہ کہتے ہیں: "میں نے اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کی ہے، اور مجھے لگتا ہے کہ کم لوگ اس بات پر یقین کریں گے کہ فلسطینی اتھارٹی خود کو مکمل طور پر ریفارم کر سکتی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوتا ہے۔"
ٹائمز آف اسرائیل کی ایک رپورٹ مین بتایا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لئے اب جو امریکی منصوبہ پیش کیا گیا ہے اس امریکی منصوبے کے تحت، یرغمالیوں کی رہائی کے بعد، "پرامن بقائے باہمی کے پابند حماس کے ارکان کو عام معافی دی جائے گی"، جب کہ غزہ چھوڑنے کے خواہشمندوں کو تیسرے ممالک میں محفوظ راستہ دیا جائے گا۔
امریکہ کے صدر کی اس تجویز میں مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لیے ممکنہ راستے، غزہ کی تعمیر نو اور فلسطینی اتھارٹی کی جامع اصلاحات کا بھی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔
یہ تجویز دراصل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں ہوئی غیر معمولی سربراہی سیشن کے دوران سامنے آنے والے اتفاق رائے کہ "حماس کو فلسطین کے مستقبل میں کوئی جگہ نہ دی جائے، فلسطینی اتھارٹی سب کچھ کنٹرول کرے", سے متصادم ہے۔