سٹی42: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے دوست اسرائیل کے پرائم منسٹر نیتن یاہو کے درمیان جھگڑے کا عقدہ کھل گیا، جھگڑے کی وجہ نیتن یاہو کی ایران پر بہر صورت حملہ کرنے کی ضد تھی، ٹرمپ نے نیتن یاہو کو اس حملے سے منع کیا، یہ حملہ رک گیا۔
آج بدھ کی شب کئی نیوز آؤٹ لیتس نے یہ بریکنگ نیوز دی ہے کہ صدر ٹرمپ نے بتایا ہے کہ "میں نے نیتن یاہو سے کہا تھا کہ ایران پر حملہ 'انتہائی نامناسب' ہوگا جب بات چیت حل کے 'بہت قریب' ہو"
صدر ٹرمپ اور پرائم منسٹر نیتن یاہو کے درمیان مبینہ تلخ کلامی کی قیاس آرائیاں کئی روز سے کی جا رہی تھیں۔ ان قیاس آرائیوں سے پہلے یہ خبر لیک ہوئی تھی کہ اسرائیل ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 28 مئی 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے لیے عبوری امریکی اٹارنی جینین پیرو (ر) کی حلف برداری کی تقریب کے دوران خطاب کر رہے ہیں۔ (جم واٹسن/اے ایف پی)
واشنگٹن سے بریکنگ نیوز دیتے ہوئے امریکہ کی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس اور اسرائیل کی لیڈنگ نیوز آؤٹ لیٹ ٹائمز آف اسرائیل نے الگ الگ رپورٹوں میں بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پرائم منسٹر نیتن یاہو کے درمیان ایران پر اسرائیل کے حملے کے متعلق بات چیت ہوئی تھی۔
ٹائمز آف اسرائیل نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے گزشتہ ہفتے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ایک کال کے دوران کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہ کریں جس سے اسلامی جمہوریہ کے ساتھ واشنگٹن کے جاری جوہری مذاکرات میں خلل پڑ سکتا ہے۔
"میں ایمانداری سے بتاؤں گا۔۔۔ ہاں!، میں نے یہ کیا تھا۔۔۔ اگلا سوال،" ٹرمپ نے اس(ایران پر حملہ کے متعلق نیتن یاہو سے بات چیت) معاملے پر ایک براہ راست سوال کے جواب میں اوول آفس میں صحافیوں کو بتایا۔
ٹرمپ نے کہا کہ "میں نے [نیتن یاہو] کو بتایا کہ یہ ابھی کرنا بہت نامناسب ہوگا کیونکہ ہم ایک حل کے بہت قریب ہیں۔"
"یہ کسی بھی لمحے بدل سکتا ہے۔ یہ ایک فون کال سے بدل سکتا ہے۔ لیکن ابھی، میرے خیال میں [ایران] ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے، اور اگر ہم کوئی معاہدہ کر سکتے ہیں، تو بہت سی جانیں بچ جائیں گی۔"
"ہماری [ایران] کے ساتھ بہت اچھی بات چیت ہو رہی ہے، اور میں نے [نیتن یاہو سے] کہا، 'میرے خیال میں یہ ابھی مناسب نہیں ہے۔' کیونکہ اگر ہم اسے ایک بہت مضبوط دستاویز کے ساتھ - (تنصیبات کے) معائنہ اور اعتماد کے ساتھ طے کر سکتے ہیں،" ٹرمپ نے مزید کہا، "میں چاہتا ہوں کہ [ڈیل] بہت مضبوط ہو جہاں ہم انسپکٹرز کے ساتھ اندر جاسکتے ہوں، ہم جو چاہیں لے سکتے ہیں۔ ہم جو چاہیں اڑا سکتے ہیں، لیکن کسی کی جان نہیں جائے گی۔"
گزشتہ روز ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا، کہ ایران جوہری مذاکرات ٹھیک چل رہے ہیں، امید ہے کہ ’سمجھدار‘ معاہدہ ہوگا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نےوائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں کے براہ راست سوالات کے جواب میں صدر ٹرمپ کی گفتگو کے متعلق جو رپورٹ کیا وہ یہ ہے: صد ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایران پر حملہ روک دیں تاکہ امریکہ کو جوہری مذاکرات کے لیے مزید وقت دیا جا سکے۔
اے پی کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے کہا ہے کہ وہ ایران پر حملہ روک دیں تاکہ امریکی انتظامیہ کو تہران کے ساتھ نئے جوہری معاہدے پر زور دینے کے لیے مزید وقت دیا جا سکے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں کو بتایا، "میں نے ان سے کہا کہ یہ ابھی کرنا نامناسب ہوگا کیونکہ ہم ایک حل کے بہت قریب ہیں۔"