( ویب ڈیسک ) یورپ کے بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ملک ناروے میں جاری مزدور تنازع شدت اختیار کر گیا، جہاں تقریباً ایک ہزار آئل سروس ورکرز کو ہفتے کے روز باضابطہ طور پر لاک آؤٹ کر دیا گیا، جس کے باعث آف شور ڈرلنگ سرگرمیاں اور تیل و گیس کی پیداوار متاثر ہونے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق لاک آؤٹ کا فیصلہ سیف یونین کی جاری ہڑتال کے ردعمل میں کیا گیا ہے، جس سے کئی بڑی آئل سروس کمپنیوں کی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔
آئل انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم آف شور ناروے کے مطابق ہڑتال اور لاک آؤٹ کے باعث آئندہ ہفتے ناروے کی تیل و گیس کی پیداوار میں روزانہ تقریباً 12 ہزار بیرل آئل ایکویویلنٹ تک کمی آسکتی ہے، جبکہ اگر تنازع جولائی کے وسط تک جاری رہا تو پیداوار میں ایک لاکھ 20 ہزار بیرل یومیہ سے زائد کمی کا خدشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب تک چار موبائل ڈرلنگ رگز، پانچ مستقل آف شور تنصیبات اور ایک انٹروینشن ویسل پر ڈرلنگ اور ویل آپریشنز مکمل طور پر معطل ہو چکے ہیں۔
یہ ہڑتال 15 جون کو اس وقت شروع ہوئی تھی جب سیف یونین اور کمپنیوں کے درمیان تنخواہوں سے متعلق مذاکرات ناکام ہوگئے، جبکہ ایک دوسری یونین Styrke نے کمپنیوں کی پیشکش قبول کر لی تھی۔
واضح رہے کہ ناروے یورپ کو پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور دنیا کی مجموعی تیل و گیس پیداوار کا تقریباً 2 فیصد پیدا کرتا ہے، جہاں یومیہ مجموعی پیداوار تقریباً 40 لاکھ بیرل آئل ایکویویلنٹ ہے۔
دوسری جانب ناروے کی وزیرِ محنت کیئرستی اسٹینسنگ نے کہا ہے کہ اگرچہ حکومت ضرورت پڑنے پر مداخلت کر سکتی ہے، تاہم جبری ثالثی صرف آخری آپشن کے طور پر استعمال کی جائے گی۔