ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران جنگ کا خاتمہ غزہ جنگ بندی کا سنہری موقع؛ قطر

Israel Hamas hostages deal, Qatari spokesman, Majid Ansari, City42, Hamas hostages, October 7 attack,
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

قطر نے ایران  جنگ کے خاتمہ کو اسرائیل اور حماس جنگ بندی کا سنہری موقع قرار دیا ہے۔قطر کی حکومت نے حماس اور اسرائیل دونوں پر زور دیا کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ جنگ بندی پر پیش رفت کے لیے فکرکریں۔
قطر نے اسرائیل اور حماس پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے "سنہری موقع" سے فائدہ اٹھائیں، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی کے بعد ایک نئی فضا ابھری ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ قطر اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں سرگرم عمل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی (یا کشیدگی میں کمی) کے بعد سے ایک "مثبت ماحول" پیدا ہوا ہے، جس سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں وسیع جنگ بندی پر پیش رفت ہو سکتی ہے۔

قطری ترجمان نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو ماضی قریب میں ضائع ہونے والے بہت سے موقعں کی طرح یہ موقع بھی ضائع ہو جائے گا۔ 

 انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ قطر نہیں چاہتا کہ ایک اور "نایاب موقع" ضائع ہو، کیونکہ یہ خطے میں امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ قطر کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے یہ معاملہ ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آ گیا ہے جس میں آنے والے دنوں میں پیش رفت کی امید ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں تقریباً 1500 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ مبینہ طور پر ان میں سے کچھ  یرغمالی ایران اسرائیل جنگ کے دوران غزہ میں جاری رہنے والی جنگ کے دوران نامعلوم حالات میں مارے گئے،  18 کے لگ بھگ یرغمالی اب بھی زندہ ہیں اور حماس ک یقید میں ہیں، جب کہ  درجنوں مر چکے یرغمالیوں کی لاشیں حماس کے پاس موجود ہیں۔

آج ہفتہ کے روز شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق حماس نے جنگ بندی کے لئے غزہ میں مستقبل میں گورننس اور سکیورٹی میں اپنے کردار کی ضد کی ہے اور بیرون ملک حماس کے اثاثوں پر حملے نہ ہونے کی ضمانت مانگی ہے۔ اسرائیل غزہ میں حماس کے وجود کو باقی نہ رکھنے پر بضد ہے اور یہی ایک نکتہ گزشتہ چار ماہ میں جنگ بندی کی تمام کوششوں کو نگل چکا ہے۔