ایل ڈی اے کو کمرشلائزیشن مستقل کرنا مہنگا پڑ گیا

ایل ڈی اے کو کمرشلائزیشن مستقل کرنا مہنگا پڑ گیا

جوہر ٹاؤن (درنایاب) ایل ڈی اے نے شعبہ کمرشلائزیشن کی ناقص پالیسیوں کا ملبہ بھی کورونا وائرس پر ڈال دیا، ایل ڈی اے 2ارب 10 کروڑ کے ہدف میں سے صرف ڈیڑھ ارب سے زائد اکٹھا کرسکا۔

لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( ایل ڈی اے) کو سالانہ کمرشلائزیشن کی پالیسی بند کر کے مستقل کمرشلائزیشن پر انحصار مہنگا پڑگیا، ایل ڈی اے کو رواں مالی سال میں کمرشلائزیشن میں چالیس کروڑ سے زائد کے شارٹ فال کاسامنا ہے۔

  ایل ڈی اے کمرشلائزیشن نے آئندہ مالی سال 20-2021 کے لئے3 ارب ٹارگٹ تجویز کردیا، ایل ڈی اے رواں مالی سال میں کاروباری طبقے کو کمرشلائزیشن میں آسانی دینے کے لئے خاطر خواہ اقدام نہ کرسکا، موجودہ معاشی صورتحال اور کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن سے بھی خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔

ذرائع کے مطابق لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی بجٹ تجاویز2020-21ء کی تیاریاں شروع کر دی گئیں، ایل ڈی اے کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے 12 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی، شہر کی ترقی اب ایل ڈی اے بجٹ کے رحم و کرم پر ہوگی،شعبہ انجینئرنگ نےایل ڈی اے کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی کاموں کے لئے  تجاویز گورننگ باڈی کو ارسال کر دیں، 3 ارب 66 کروڑ59 لاکھ روپے سے 2 انڈر پاسز اور سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا کام کیا جائے گا۔

دوسری جانب ایل ڈی اے نے وزیراعظم عمران خان کے ترجیحی منصوبوں ہائی رائز فلیٹوں کی تعمیر اور راوی ریور فرنٹ منصوبے کو بھی غیر سنجیدہ لے لیا، جس پر وائس چئیرمین نے ایک گھنٹہ طویل اجلاس میں برہمی کا اظہار کرتےہوئے افسران کو دونوں پراجیکٹ کو آن گراؤنڈ لانے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دے دی ۔

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت  نے ایل ڈی اے کا دائرہ کار محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا، لارڈ میئر کے ماتحت ہونے کی صورت میں ایل ڈی اے صرف شہر کی ماسٹر پلاننگ اور ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے کا مجاز ہوگا، ایل ڈی اے نے ایم سی ایل کے ماتحت آنے کی مخالفت کردی۔