ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  اسرائیل کے انسانی حقوق کے گروپوں نےغزہ میں جینوسائیڈ کا الزام لگادیا

Gaza situation, Genocide, B’Tselem and Physicians for Human Rights
کیپشن: فائل:  27 جولائی 2025 بروز اتوار، شمالی غزہ کی پٹی سے غزہ سٹی پہنچنے والے انسانی امداد کے قافلے سے فلسطینی آٹے کے تھیلے لے کر جا رہے ہیں۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  اسرائیل کے انسانی حقوق کے 2 بڑے گروپوں نے  اسرائیل پر غزہ میں جینوسائیڈ (نسل کشی) کا الزام لگادیا۔
B’Tselem  اور  فزیشنز فار ہیومن رائٹس  Physicians for Human Rights نے ایک نئی رپورٹ شائع کی ہے جس میں اسرائیل پر غزہ میںجینوسائیڈ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے،  یہ دونوں ایسا  الزام لگانے والی پہلی بڑی اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیمیں  ہیں۔

ان تنظیموں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی پالیسی اور اس کے ہولناک نتائج کا جائزہ، "سینئر اسرائیلی سیاست دانوں" اور فوجی کمانڈروں کےحملے کے اہداف کے بارے میں بیانات سے، یہ واضح نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں فلسطینی معاشرے کو تباہ کرنے کے لیے مربوط، جان بوجھ کر کارروائی کر رہا ہے،" "دوسرے لفظوں میں: اسرائیل فلسطینیوں کے جینوسائیڈ کا ارتکاب کر رہا ہے۔"

مشرقی یروشلم میں ایک پریس کانفرنس میں، B'Tselem کے ایگزیکٹو بورڈ کے سربراہ اورلی نوئے کہتے ہیں: "اس جرم کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ذمہ داری  بین الاقوامی برادری پر بھی ہ عائد ہوتی ہے لیکن سب سے پہلے اسرائیل پر عائد ہوتی ہے، وہ یہاں سے صرف 70 کلومیٹر (43.5 میل) کے فاصلے پر ہونے والے جرائم کو روکنے کے لیے ہر ممکن طریقے استعمال کرے۔

B'Tselem کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر  یولی نوواک Yuli Novak کہتے ہیں: " جینوسائیڈ  کی تعریف ایک گروپ کو تباہ کرنے کے ارادے کے ساتھ ایک مربوط حملہ ہے۔ پچھلے 22 مہینوں سے، ہم نے شہریوں کی بے مثال تباہی، جان بوجھ کر  پیدا کی گئی بھوک، اور بڑے پیمانے پر جبری نقل مکانی، اور غزہ کے باشندوں کے کو شرف انسانی اور  انسانی حقوق سے محروم ہوتے دیکھا ہے۔"

اسرائیل کی حکومت نے اس رپورٹ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا  لیکن نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرتا ہے اور حماس پر سکولوں اور ہسپتالوں اور شہری انفراسٹرکچر میں سرایت کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ حماس کو اسرائیل دہشتگرد تنظیم تصور کرتا ہے اور اس کو ختم کرنا اپنا حق تصور کرتا ہے۔  غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کو جینوسائیڈ قرار دینے والے بہت سے ناقد حماس کو دہشتگرد تنظیم تو سمجھتے ہیں لیکن وہ غزہ میں کارروائی کے دائرہ کار کو عام شہریوں کے خلاف تصور کرتے ہیں جس کا جواب اسرائیل ابتدا سے ہی یہ دیتا آ رہا ہے کہ عام شہری کبھی اس کا نشانہ نہین رہے بلکہ حماس جو دہشتگرد ہے، وہ عام شہریوں کے پیچھے چھپ کر کام کرتی ہے۔  اسرائیل نے ہسپتالوں، سکولوں، مساجد اور عام شہری عمارتوں میں حماس کی موجودگی کے شواہد متعدد بار پیش کئے لیکن ان دلائل نے غزہ میں جینوسائیڈ کا الزام لگانے والوں کو زیادہ متاثر نہیں کیا۔

اب ایک بار پھر وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کی شہری آبادی کو بھوکا مارنے کی دانستہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

Caption غزہ میں کھانے کی حالیہ قلت کے متعلق اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ قلت  حماس کے کارکنوں کے خوراک کے ذخائر پر قبضہ کرنے اور خوراک کو غزہ پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لئے استعمال کرنے کی وجہ سے ہے، اسرائیل کہتا ہے کہ وہ خوراک کو حماس کے  کارکنوں کے ہاتھوں تک پہنچنے سے روکنے  کے لئے اقدامات کر رہا ہے لیکن انٹرنیشنل کمینوٹی کا کہنا ہے کہ خوراک غزہ کے عام شہریوں تک بہرحال کافی مقدار مین پہنچنا چاہئے جو آج کل نہیں پہنچ رہی۔