سٹی42: اسرائیل کے انسانی حقوق کے 2 بڑے گروپوں نے اسرائیل پر غزہ میں جینوسائیڈ (نسل کشی) کا الزام لگادیا۔
B’Tselem اور فزیشنز فار ہیومن رائٹس Physicians for Human Rights نے ایک نئی رپورٹ شائع کی ہے جس میں اسرائیل پر غزہ میںجینوسائیڈ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے، یہ دونوں ایسا الزام لگانے والی پہلی بڑی اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیمیں ہیں۔
ان تنظیموں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی پالیسی اور اس کے ہولناک نتائج کا جائزہ، "سینئر اسرائیلی سیاست دانوں" اور فوجی کمانڈروں کےحملے کے اہداف کے بارے میں بیانات سے، یہ واضح نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں فلسطینی معاشرے کو تباہ کرنے کے لیے مربوط، جان بوجھ کر کارروائی کر رہا ہے،" "دوسرے لفظوں میں: اسرائیل فلسطینیوں کے جینوسائیڈ کا ارتکاب کر رہا ہے۔"
مشرقی یروشلم میں ایک پریس کانفرنس میں، B'Tselem کے ایگزیکٹو بورڈ کے سربراہ اورلی نوئے کہتے ہیں: "اس جرم کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ذمہ داری بین الاقوامی برادری پر بھی ہ عائد ہوتی ہے لیکن سب سے پہلے اسرائیل پر عائد ہوتی ہے، وہ یہاں سے صرف 70 کلومیٹر (43.5 میل) کے فاصلے پر ہونے والے جرائم کو روکنے کے لیے ہر ممکن طریقے استعمال کرے۔
B'Tselem کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر یولی نوواک Yuli Novak کہتے ہیں: " جینوسائیڈ کی تعریف ایک گروپ کو تباہ کرنے کے ارادے کے ساتھ ایک مربوط حملہ ہے۔ پچھلے 22 مہینوں سے، ہم نے شہریوں کی بے مثال تباہی، جان بوجھ کر پیدا کی گئی بھوک، اور بڑے پیمانے پر جبری نقل مکانی، اور غزہ کے باشندوں کے کو شرف انسانی اور انسانی حقوق سے محروم ہوتے دیکھا ہے۔"
اسرائیل کی حکومت نے اس رپورٹ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا لیکن نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرتا ہے اور حماس پر سکولوں اور ہسپتالوں اور شہری انفراسٹرکچر میں سرایت کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ حماس کو اسرائیل دہشتگرد تنظیم تصور کرتا ہے اور اس کو ختم کرنا اپنا حق تصور کرتا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کو جینوسائیڈ قرار دینے والے بہت سے ناقد حماس کو دہشتگرد تنظیم تو سمجھتے ہیں لیکن وہ غزہ میں کارروائی کے دائرہ کار کو عام شہریوں کے خلاف تصور کرتے ہیں جس کا جواب اسرائیل ابتدا سے ہی یہ دیتا آ رہا ہے کہ عام شہری کبھی اس کا نشانہ نہین رہے بلکہ حماس جو دہشتگرد ہے، وہ عام شہریوں کے پیچھے چھپ کر کام کرتی ہے۔ اسرائیل نے ہسپتالوں، سکولوں، مساجد اور عام شہری عمارتوں میں حماس کی موجودگی کے شواہد متعدد بار پیش کئے لیکن ان دلائل نے غزہ میں جینوسائیڈ کا الزام لگانے والوں کو زیادہ متاثر نہیں کیا۔
اب ایک بار پھر وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کی شہری آبادی کو بھوکا مارنے کی دانستہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔