ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اہم مقدمہ ، سوشل پلیٹ فارمز کو اربوں ڈالر کے نقصان کا خدشہ

 اہم مقدمہ ، سوشل پلیٹ فارمز کو اربوں ڈالر کے نقصان کا خدشہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:امریکہ میں ایک اہم مقدمہ شروع ہو گیا ہے جس میں پہلی بار بڑی سوشل میڈیا کمپنیاں عدالت میں اس الزام کا سامنا کر رہی ہیں کہ ان کے پلیٹ فارمز نوجوانوں کو نشے کی طرح استعمال پر مجبور کرتے ہیں اور ان کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

لاس اینجلس میں دائر کیے گئے اس کیس میں ایک 19 سالہ لڑکی اور اس کی والدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹک ٹاک ، میٹا، یو ٹیوب،سنیپ چیٹ نے جان بوجھ کر ایسی خصوصیات تیار کیں جو بچوں کو مسلسل اسکرولنگ، غیر صحت مند مواد اور اجنبی افراد سے خطرناک روابط کی طرف دھکیلتی ہیں۔ مقدمے سے قبل ٹک ٹاک اور سنیپ چیٹ خفیہ شرائط پر معاملہ نمٹا چکے ہیں، لیکن میٹا اور یو ٹیوب کو اب براہِ راست عدالت میں صفائی دینا ہوگی۔  

میٹا (Meta) کا کہنا ہے کہ وہ والدین کی بات سنتے ہیں اور نوجوانوں کے تحفظ کے لیے حقیقی تبدیلیاں کر چکے ہیں، جبکہ یو ٹیوب  (YouTube) نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ محفوظ اور صحت مند تجربہ فراہم کرنے پر کام کرتے ہیں۔   ٹک ٹاک (TikTok) نے اس مقدمے پر کوئی جواب نہیں دیا، تاہم حالیہ برسوں میں پرائیویسی اور نوٹیفکیشن کنٹرول جیسے فیچرز متعارف کرائے ہیں۔ سنیپ ( Snap )کا مؤقف ہے کہ اس کا پلیٹ فارم مختلف ہے، جہاں عوامی لائکس یا فیڈ موجود نہیں اور حفاظتی ٹولز پہلے سے شامل ہیں۔  

اس مقدمے میں ایک اہم بیان سامنے آیا ہے جس میں Heat Initiative کی سربراہ  سارہ گارڈنر نے کہا کہ یہ ہمارے دور کے "تمباکو مقدمات" ہیں اور پہلی بار بڑے ٹیک  سی ای او  کو براہِ راست جواب دینا ہوگا کہ انہوں نے جان بوجھ کر بچوں کو اپنی مصنوعات کا عادی بنایا۔  

یہ مقدمہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف کی امید ہے بلکہ ہزاروں دیگر کیسز کے مستقبل کا فیصلہ بھی بدل سکتا ہے، اور ممکن ہے کہ ٹیک کمپنیوں کو اربوں ڈالر کے نقصانات اور پلیٹ فارمز میں بنیادی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑے۔