ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت کو بنگلہ دیش اور پاکستان دوستی کی فکر۔۔بے ہودہ میڈیا مہم شروع

بھارت کو بنگلہ دیش اور پاکستان دوستی کی فکر۔۔بے ہودہ میڈیا مہم شروع
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بنگلہ دیش اور پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت کو اب ان دونوں اسلامی ملکوں کی  بڑھتی ہوئی دوستی کو دیکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ بھارت کو بنگلہ دیشی حکومت کے خلاف کچھ کہنے کو نہیں ملا تو ان کے میڈیا  نے بنگلہ دیش میں مانع حمل ادویات کی کمی کو  بڑا سنگین معاملہ قرار دیدیا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق محمد یونس کے دور حکومت میں بنگلہ دیش کا پورا نظام درہم برہم ہو گیا۔ امن و امان کو پہلے ہی دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک کا خاندانی منصوبہ بندی کا پروگرام تباہ ہو رہا ہے۔ بنگلہ دیش کو مانع حمل ادویات کی کمی کا سامنا ہے۔ یونس کو 33 دن کا الٹی میٹم دیا گیا ہے اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کچھ نہ کیا گیا تو بنگلہ دیش کو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اقتدار میں رہتے ہوئے یونس نے اپنی تمام تر توجہ پاکستان کی دیکھ بھال پر مرکوز رکھی ہے ۔ ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر رہ گیا ہے ۔ ان سب کے درمیان ملک میں ایک ایسا بحران پیدا ہوا ہے جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ بحران  مانع حمل کیلئے  مردوں کے زیراستعمال’’پیکٹ‘ سے متعلق ہے۔ 

رپورٹ کےمطابق  یونس کو اب ایک سنگین بحران کا سامنا ہے۔ ملک میں مانع حمل’’ پیکٹ‘‘ کا حصول مشکل ہو گیا ہے۔ بنگلہ دیش کو مانع حمل ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس سے ملک کے خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کے تباہ کرنے کا خطرہ ہے۔ بنگلہ دیش کی خبر رساں ایجنسی ڈیلی اسٹار کے مطابق بنگلہ دیش میں مانع حمل ’’پیکٹ‘‘ کا ذخیرہ اگلے سال کے اوائل تک مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے۔ سرکاری ایجنسی (DGFP) کے پاس اب صرف 39 دن کا اسٹاک باقی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 11 دسمبر 2025 تک ایجنسی کے پاس 39 دن کے مردوں کے استعمال کرنیوالے ’’پیکٹ‘‘، 33 دن کے امپلانٹس، 45 دن کے آئی یو ڈی، پانچ ماہ سے زیادہ مالیت کی اورل گولیاں، اور چھ ماہ کی مالیت کے انجیکشن موجود ہیں۔

رپورٹ کے مزید کہا گیا ہےکہ بنگلہ دیش میں مانع حمل’’ پیکٹ‘‘  کی سپلائی میں پچھلے چھ سالوں میں 57 فیصد کی حیران کن کمی آئی ہے۔ صورتحال اتنی سنگین ہے کہ کم از کم ایک ماہ تک ملک میں مانع حمل پیکٹ ملنا مکمل طور پر بند ہوسکتا ہے ۔ صرف یہ پیکٹ ہی نہیں بلکہ مانع حمل گولیوں کی سپلائی میں بھی 2019 سے 63فیصد اور IUDs میں 64فیصد کی کمی آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق 50 سالوں میں پہلی بار بنگلہ دیش کی شرح پیدائش  میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حالات کے پیش نظر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مردوں کےاستعمال کرنیوالے ’’پیکٹ‘‘ اور دیگر مانع حمل ادویات فوری طور پر دستیاب نہ کی گئیں تو بنگلہ دیش کو آبادی کے ایک ایسے دھماکے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن پر قابو پانا بہت ہی مشکل ہوجائے گا ۔

یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہےکہ دنیا میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے ممالک میں چین، بھارت اور امریکہ شامل ہیں اور بھارت نے حال ہی میں چین سے آگے نکل کر پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ اور اب بھارت کا آبادی پر کنٹرول کے حوالے سے ہمسایہ ملک کو محض بدنام کرنے کیلئے تنقید کا نشانہ بنانا کسی بھی طرح اچھا اقدام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس میڈیا مہم کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔