(امانت گشکوری)ہائیکورٹ کے ججز کے تبادلوں کےمعاملے پر بیرسٹر گوہر علی خان اور بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ آج 28 اپریل 2026 آزاد عدلیہ کیلئے افسوسناک دن ہے،آج عدلیہ پر تیز وار کیا گیا ہے۔کسی جج کو سنے بغیر اٹھا کر کہیں لے جانے کی آئین اجازت نہیں دیتا،یہ تو ہم سمجھتے ہیں ایک سزا ہے۔
سپریم کورٹ میں ہونیوالے جوڈیشل کمیشن اجلاس کے حوالے سے بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ جسٹس ارباب طاہر اور خادم حسین سومرو کے تبادلے کا معاملہ ڈراپ کردیا گیا،جسٹس بابر ستار کا پشاور،جسٹس محسن کیانی لاہور اور جسٹس ثمن رفعت کا سندھ تبادلہ کردیا گیا، ججز کا یہ تبادلہ اکثریت سے ہوا،تمام ہائیکورٹس میں ججز کی تعداد مکمل ہے، ججز کا تبادلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نےمزید کہا کہ آج 28 اپریل 2026 آزاد عدلیہ کیلئے افسوسناک دن ہے،آج عدلیہ پر تیز وار کیا گیا ہے، ججز کے تبادلے سے قبل رولز بننے چاہیں تھے،26ویں آئینی ترمیم کے بعد رولز بنانے کا پہلے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا،آئین میں لکھا تھا ججز کو مرضی کے بغیر تبادلہ نہیں کیا جائے گا، ججز کا موقف سنے بغیر پسند نا پسند پر تبادلہ عدلیہ پر حملہ ہے۔
انہوں نے کہا بانی پی ٹی آئی کو رات انجکشن کیلئے ہسپتال لایا گیا،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کا علاج ذاتی معالجین سے کرایا جائے،ایسے ملک نہیں چل سکتا کہ مقبول لیڈر کو دیوار میں چن دیں۔
بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جج کا تبادلہ تین وجوہات پر ہو سکتا ہے،کسی ایکسپرٹ جج کو کسی ضرورت کی جگہ لے جانا ہو تو وہ جائز بات ہے،اگر کسی کو بدنیتی سے ٹرانسفر کرنا ہو تو وہ ناجائز ہے،بدنیتی سے تبادلہ کرنے کی آئین اجازت نہیں دیتا،ایک تیسرا طریقہ جو پہلے کبھی نہیں دیکھا وہ بلاوجہ تبادلے کا ہے جو آج دیکھا،کسی جج کو سنے بغیر اٹھا کر کہیں لے جانے کی آئین اجازت نہیں دیتا،یہ تو ہم سمجھتے ہیں ایک سزا ہے، ججز کو پولیس یا سول سرونٹ کی طرح ٹرانسفر کرنے سے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے،ہم نے ان تبادلوں کی مخالفت کی مگر ہمارے پاس اکثریت نہیں تھی۔یہ جو کچھ ہو رہا ہے غیر آئینی طریقے سے کیا جا رہا ہے۔