سٹی 42: معروف ماہرِ امورِ خارجہ محمد مہدی نے دنیا بھر سے پہلی 20 ممتاز یونیورسٹیوں میں شامل جان ہاپکنز یونیورسٹی، واشنگٹن میں ایشیا کی موجودہ سلامتی کی صورتِ حال اور ممکنہ مستقبل کے منظرناموں پر لیکچر دیا، جس کے بعد انہوں نے یونیورسٹی کے فیکلٹی ارکان اور طلبہ کے ساتھ سوال و جواب کی نشست میں شرکت کی۔
اپنے خطاب میں محمد مہدی نے کہا کہ پاکستان کی قومی سلامتی کو صرف عسکری طاقت، دفاعی صلاحیت اور سرحدی تحفظ تک محدود کرکے دیکھا جائے تو ریاستی سلامتی کے موجودہ تصور کا صرف ایک حصہ سامنے آتا ہے۔ ان کے مطابق جدید بین الاقوامی نظام میں قومی سلامتی ایک کثیرالجہتی تصور بن چکی ہے، جس میں عسکری دفاع کے ساتھ معاشی استحکام، سیاسی اداروں کی کارکردگی، داخلی امن، سائبر سکیورٹی، تکنیکی استعداد اور عوامی اعتماد بھی اہم عناصر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی کشمکش، ادارہ جاتی تناؤ، معاشی دباؤ، صوبائی شکایات اور دہشت گردی کو الگ الگ مسائل کے طور پر دیکھنا کافی نہیں، کیونکہ یہ عوامل ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ریاست کی مجموعی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔ ان کے بقول پائیدار قومی سلامتی کے لیے مضبوط ادارے، قانون کی بالادستی، معاشی استحکام اور ریاستی نظام پر عوامی اعتماد ضروری ہیں۔
چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حوالہ دیتے ہوئے محمد مہدی نے کہا کہ بڑے اقتصادی منصوبوں کی کامیابی کا جائزہ محض انفراسٹرکچر کی تعمیر سے نہیں بلکہ ان کے قابلِ پیمائش معاشی نتائج سے لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے صنعتی پیداوار، تجارت، برآمدات، روزگار اور تکنیکی منتقلی کو اس تعاون کے اثرات جانچنے کے اہم پیمانوں میں شمار کیا۔
علاقائی سلامتی کے حوالے سے انہوں نے مکہ دفاعی معاہدے سمیت مختلف سکیورٹی انتظامات کا جائزہ معاہداتی ذمہ داریوں اور قومی مفاد کی بنیاد پر لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق مشترکہ دفاع کی حدود، فیصلہ سازی کا طریقۂ کار اور ممکنہ علاقائی تنازعات میں پاکستان کی ذمہ داریوں کو واضح طور پر سمجھنا ضروری ہے۔
امریکہ کے ساتھ تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور سفارتی تعاون کے امکانات کا ذکر کیا، تاہم کہا کہ کوئی بھی خارجی تعلق پاکستان کی داخلی معاشی کمزوری کا متبادل نہیں ہوسکتا۔
محمد مہدی کے مطابق پاکستان کی قومی سلامتی کا دائرہ دفاعی طاقت سے آگے بڑھ کر ریاست کی مجموعی صلاحیت تک پھیلتا ہے، جس میں مضبوط دفاع، مستحکم معیشت، مؤثر ادارے، علمی و تکنیکی استعداد اور عوامی اعتماد بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔