ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

منی لانڈرنگ تحقیقات کیلئے ٹیکس کیس ختم ہونے کا انتظار ضروری نہیں، لاہور ہائیکورٹ

منی لانڈرنگ تحقیقات کیلئے ٹیکس کیس ختم ہونے کا انتظار ضروری نہیں، لاہور ہائیکورٹ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کیلئے ٹیکس کیس کے ختم ہونے کا انتظار ضروری نہیں، منی لانڈرنگ اپنی جگہ ایک الگ جرم ہے اور ٹیکس کا مقدمہ اور منی لانڈرنگ کیس الگ الگ معاملات ہیں۔

ایف بی آر کے اعلامیے کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے رٹ پٹیشن 2928 آف 2026 پر فیصلہ سنایا۔ جسٹس خالد اسحاق اور جسٹس حسن نواز مخدوم پر مشتمل بینچ نے ایف بی آر ان لینڈ ریونیو انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (آئی اینڈ آئی) کے اختیارات کو چیلنج کرنے والی تمام درخواستیں خارج کردیں۔

اعلامیے کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ ایف بی آر کے آئی اینڈ آئی ونگ کو ایف آئی آر درج کرنے اور تحقیقات کا پورا اختیار حاصل ہے۔ منی لانڈرنگ کا مقدمہ اور ٹیکس کا کیس دو الگ معاملات ہیں اور ایک کیس کے ختم ہونے کا انتظار کیے بغیر دوسرا کیس آگے بڑھ سکتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ منی لانڈرنگ کیس کیلئے بنیادی جرم میں پہلے سزا ہونا ضروری نہیں۔ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ ایک خصوصی قانون ہے جسے عام قوانین پر فوقیت حاصل ہے، جبکہ ٹیکس کے جاری مقدمات کو بنیاد بنا کر منی لانڈرنگ کی کارروائی روکی نہیں جا سکتی۔

ایف بی آر کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ تاج انٹرنیشنل کیس صرف سیلز ٹیکس کے تعین اور وصولی سے متعلق تھا، اس لیے اسے منی لانڈرنگ کی کارروائی روکنے کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

اعلامیے کے مطابق بینکوں کی جانب سے مشکوک لین دین کی اطلاع فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کو دینا قانونی دائرے میں ہے۔ رقم کہاں سے آئی اور کیسے منتقل ہوئی، اس کا فیصلہ خصوصی عدالتیں کریں گی۔

لاہور ہائی کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ رٹ درخواست کے ذریعے فوجداری تحقیقات کو پہلے سے نہیں روکا جا سکتا۔

ایف بی آر نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی آمدنی ظاہر کرتا ہے اور ٹیکس ادا کرتا ہے تو اس فیصلے سے اس کیلئے کچھ نہیں بدلے گا۔

ایف بی آر کے مطابق فیصلہ غیر قانونی پیسہ چھپانے والوں کے خلاف کارروائی کو مضبوط کرے گا اور منی لانڈرنگ و مالیاتی جرائم کے خلاف کارروائی مزید مؤثر ہوگی۔ ایف بی آر نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے قانونی ابہام دور ہوگیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق کیس ڈی جی آئی اینڈ آئی ان لینڈ ریونیو عقیل احمد صدیقی کی نگرانی میں لڑا گیا۔