ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 لداخ کی حقوق کی تحریک کے رہنما پر پاکستان سے روابط کا الزام، لداخی عوام کا احتجاج

Sonam Wangchuck , Ladakh, Leh , Constitutional Rights, Violence, Hunger strike, Jodhpur Jail, City42
کیپشن: لیہہ میں عوام  سونم وانگ چک کی رہائی کے لئے احتجاج کر رہے ہیں، اور بھارت کی حکومت سونم وانگ چک کی مقبولیت سے ڈر کر اس پر الٹے سیدھے الزامات لگا رہی ہے۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: بھارت کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے لداخ  کے شہر لیہہ سے کسی جرم کے بغیر گرفتار کئے گئے  مقامی کارکن  سونم وانگ چک کو لداخ سے سینکڑوں کلومیٹر دور راجستھان کی جیل میں بند کر دیا ہے اور ان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر ان پر "پاکستان کا ایجنٹ" ہونے کا الزام لگانا شروع کر دیا ہے۔ یہ کام اس وقت کیا گیا ہے جب لیہہ اور لداخ بھر میں عوام وانگ چک کی رہائی کے لئے مطالبے کر رہے ہیں۔

سونم وانگ چک کے بارے میں آج بھارت کے میڈیا میں یہ "خبر" لیک کر کے شائع کروائی گئی کہ ان کے مبینہ طور پر پاکستان سے روابط کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔  اس نام نہاد خبر کے ساتھ  "پولیس حکام" سے منسوب یہ ایک جملہ میڈیا مین رپورٹ کیا گیا ہے کہ وانگ چک نے غیر ملکی دورے کئے تھے اور وہ پاکستان میں ایک نیوز آؤٹ لیٹ کی ایک تقریب میں شریک ہونے کیلئے گئے تھے۔ 

سونم وانگچک کون ہیں (سیاق و سباق)

تنازعہ میں ڈوبنے سے پہلے، کچھ پس منظر یہ سمجھنے میں مدد کرتا ہے کہ اس کی گرفتاری کیوں اہم ہے:

سونم وانگ چک لداخ میں مقیم انجینئر، ماہر ِماحولیات اور  سیاسی، سماجی، ماحولیاتی کارکن ہیں۔ وہ پانی کے تحفظ میں مدد کے لیے "آئس سٹوپا" (مصنوعی گلیشیئرز) جیسے کام کے لیے مشہور ہیں۔


سونم وانگ چک نے  وقت گزرنے کے ساتھ،  لداخ کے متعلق  سیاسی اور آئینی حقوق کی وکالت بھی کی ہے - وانگ چک خاص طور پر مرکز ک(دہلی) سے براہ راست کنترول کئے جا رہے اس متنازعہ علاقے لداخ کے لیے ریاستی حیثیت اور آئینی تحفظات (مثلاً ہندوستانی آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت شمولیت) کا مطالبہ کرنے والے لداخی کارکنوں میں شامل ہیں۔ پاکستان کی لداخ پر پوزیشن سونم وانگ چک کے مطالبات سے عین برعکس ہے۔ پاکستان کشمیر کی طرح لداخ کو بھی متنازعہ علاقہ مانتا ہے اور  بھارت کے مقبوضہ کشمیر کے ساتھ لداخ میں بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کروا کر اس علاقہ کے مستقبل کا تعین کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ 

لداخ کی حالیہ تحریکِ حقوق

لداخ  میں ایک خطہ کے طور پر حالیہ برسوں میں زیادہ خود مختاری، مقامی حقوق کے تحفظ، زمین اور وسائل پر زیادہ مقامی کنٹرول وغیرہ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج اور سیاسی سرگرمی دیکھی کا رہی ہے۔ 

سونم وانگ چک بھی اس تحریک میں سرگرم ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دنوں لیہہ میں بھوک ہڑتال کر رکھی تھی۔ پھر عوامی احتجاج بڑھا تو انہوں نے رضاکارانہ بھوک ہڑتال ختم کر دی تھی۔ جس روز وانگ چک نے بھوک ہڑتال ختم کی اسی روز لیہہ میں احتجاج پرتشدد ہو گیا اور بھارت کی مرکزی حکومت نے لیہہ میں کرفیو لگوا دیا تھا۔ اس کرفیو کے دوسرے دن لداخ کو  آئینی حیثیت کے کر شیدول چھ کے تحت حقوق دینے کے  مطالبہ کے حامی وانگ چک کو بھی گرفتار کر لیا گیا اور انہیں لیہہ مین رکھنے کی بجائے لیہہ سے گاڑی پر لاد کر راجستھان پہنچا دیا گیا جہاں انہیں  جودھ پور سنٹرل جیل میں رکھا گیا ہے۔  کیونکہ وانگ چک کو گرفتار کرنے کے لئے  ان کا کوئی جرم دستیاب نہیں اس لئے انہیں  ایک کالے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا۔

NSA (نیشنل سیکورٹی ایکٹ) کے تحت کسی جرم کے بغیر حراست
لداخ پولیس اور ڈی جی پی ایس ڈی سنگھ جموال کے  بیانات کے مطابق وانگ چک کو NSA کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، جو تمام قوانین کو نظر انداز کر کے  قومی سلامتی یا امن عامہ کے لیے خطرہ سمجھے جانے کے الزام یا دعوے کے تحت کسی بھی شخص کو  "احتیاطی حراست" میں لینے  کی اجازت دیتا ہے۔ وانگ چک کو صرف  کسی الزام کے بغیر گرفتار ہی نہیں کیا گیا بلکہ انہیں لداخ سے سینکڑوں کلومیٹر دور راجستھان کی ایک جیل میں لے جا کر بند کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد انہین اور ان کے لیہہ میں موجود پیروکاروں کو خوفزدہ کرنا ہے۔ اس سے پہلے بھارتی حکومت ایسی ہی حرکتین کشمیری حریت پسندوں کے ساتھ بھی کرتی رہی ہے۔ 
وانگ چک کو  جودھ پور سنٹرل جیل (راجستھان) میں منتقل کر دیا گیا ہے — جو لداخ سے کافی دور (1,000 کلومیٹر سے زیادہ)  ہے اور  وانگ چک کے لواحقین اور احباب کی جیل تک رسائی وغیرہ کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے۔

لیہہ/احتجاج میں مبینہ طور پر تشدد پر اکسایا گیا
پولیس کا دعویٰ ہے کہ 24 ستمبر کو لیہہ میں مظاہرے پرتشدد ہوگئے، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے، اور وانگ چک کی تقاریر/بیانات  نے اکسانے کا کام کیا۔مقامی ذرائع نے سوشل میڈیا پر اس کے برعکس یہ بتایا ہے کہ وانگ چک نریندر مودی کی لداخ سے بہت دور بیتھ کر حکومت چلانے والی انتظامیہ کو نرم الفاظ میں بتا رہے تھے کہ  حقوق دینا بہتر ہے۔ پولیس کہتی ہے کہ انہوں نے "عرب سپرنگ" یا نیپال، بنگلہ دیش میں بدامنی کے حوالے دیئے تھے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ وانگ چک نے "پلیٹ فارم کو ہائی جیک کرنے" اور "لداخ کی قیادت" اور مرکزی حکومت کے درمیان بات چیت کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کی۔

"پاکستان لنک" / غیر ملکی رابطےکاالزام
وانگ چک کو گرفتار کرنے کے بعد اب اچانک یہ زیادہ متنازعہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وانگ چک کے پاکستان کے ساتھ روابط کی تحقیقات جاری ہیں۔ کچھ مخصوص الزامات:

پولیس کے نام سے میڈیا میں یہ بات شائع کی گئی  ہے کہ وانگ چک نے  پاکستان میں ڈان (پاکستانی میڈیا ہاؤس) کی ایک تقریب میں شرکت کی تھی، اور بنگلہ دیش کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس کے بارے میں ٹیلی گراف انڈیا،ہندوستان ٹائمز،دی اکنامک ٹائمز اور کئی دوسری میڈیا آؤٹ لیٹس نے پولیس کےحوالے سے یہ  شائع کیا ہے کہ  پولیس کا دعویٰ ہے کہ وانگ چک کےغیر ملکی دورے مشکوک ہیں۔

غیر ملکی فنڈنگ/غیر ملکی شراکت (ریگولیشن) ایکٹ (FCRA) کی مبینہ خلاف ورزیوں کی بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ ان کی تنظیم  "سٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ" - نے حقوق کی تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا تو  مبینہ خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے حال ہی میں مرکزی حکومت نے اس تنطیم کا ایف سی آر اے لائسنس منسوخ کر دیا تھا۔


الزامات کا سیاق و سباق ؛ کوئی ثبوت نہ شواہد

پولیس کا استدلال ہے کہ لداخ کے نمائندوں اور مرکز کے درمیان ابتدائی بات چیت 25-26 ستمبر کو ہونے والی تھی، اور یہ کہ احتجاج (اور وانگ چک کی بھوک ہڑتال) اس ماحول کو خراب کرنے یا خراب کرنے کے لیے کی گئی تھی۔ 

الزام لگایا، ثبوت نہیں بتایا

پولیس کے ڈی جی کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں کیا پایا گیا ہے اس کا انکشاف نہیں کیا جا سکتا۔

بھارت کی مرکزی حکومت کے حکام نے لیہہ میں کرفیو بھی نافذ کر دیا، موبائل انٹرنیٹ معطل کر دیا اور بدامنی کے سلسلے میں کئی لوگوں کو گرفتار کر لیا۔ لیکن سب سے برا سلوک وانگ چک کے ساتھ کیا گیا جنہیں لیہہ سے اٹھا کر جودھ پور پہنچا دیا گیا۔ 

 کئی اہم نکات غیر واضح  ہیں یا متنازعہ ہیں

"پاکستان کے ساتھ روابط" (کمیونیکیشن، فنڈنگ، کوآرڈینیشن) کے کسی ثبوت کو ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ حکام نے الزامات لگائے ہیں لیکن (اب تک عوامی رپورٹس میں)  ثبوت پیش نہیں کیے۔

وانگ چک اور ان کے حامیوں نے اکسانے اور غیر ملکی سازش کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج مقامی شکایات کا جائز اظہار ہے اور انہیں اختلاف رائے کو کچلنے کے لئے جبر  کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس طرح کے احتجاجی تناظر میں NSA کا استعمال، جو کہ ایک سخت حفاظتی حراستی قانون ہے۔  متنازعہ ہے اور شہری آزادیوں کے بارے میں سوال اٹھاتا ہے، خاص طور پر کہ یہ کہ کیا لیہہ میں عوام کے مطالبات کو دبانے کے لئے مناسب عمل کی پیروی کی جا رہی ہے۔

وانگ چک کی دور دراز کی جیل (جودھ پور) میں منتقلی نے قانونی چارہ جوئی، وکیل تک رسائی، اور نگرانی کو مزید مشکل بنا دیا ہے، اور ناقدین اسے شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ایف سی آر اے لائسنسنگ کی منسوخی کو بعض اوقات حکومتوں کی جانب سے این جی اوز کو دبانے کے لیے استعمال ہونے والے ایک آلے کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔


لداخ کی خودمختاری کے مطالبے

لداخ کے سیاسی مطالبات (ریاست کا درجہ، آئینی تحفظات) کا تناظر پیچیدہ ہے۔ کچھ مقامی آوازوں نے احتجاج کے کچھ حصوں یا حربوں پر تنقید کی ہے۔ دوسرے انہیں جائز سمجھتے ہیں۔

نیز، ہندوستانی میڈیا کے ماحول کو دیکھتے ہوئے، بعض اوقات ریاست کے دعوے پریس کوریج میں غیر تنقیدی طور پر گونجتے ہیں۔ بہت سے دعووں کی آزاد تصدیق  نہیں کی جاتی لیکن انہین بار بار دہرا کر دہلی سرکار کی مرضی کا نیریٹو چلا دیا جاتا ہے۔ 

یہ کیس متنازعہ کیوں ہے / تشویش کے نکات

"غیر ملکی روابط" کے الزامات سنگین ہیں، خاص طور پر ہندوستان اور پاکستان کے تناظر میں: یہ بیانیہ کو "سیاسی احتجاج" سے "سیکیورٹی خطرے" کی طرف منتقل کر سکتا ہے اور لیہہ میں جاری احتجاجی تحریک کو طاقت سے کچلنے کے لئے مضبوط ریاستی کارروائی کا جواز پیش کر سکتا ہے۔

بھارت میں  انسانی ھقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ شہری احتجاج کے مقدمات میں قومی سلامتی/احتیاطی حراستی قوانین کا استعمال ہمیشہ متنازعہ رہتا ہے، کیونکہ ایسے قوانین آزادی کی پابندیوں میں سب سے زیادہ سخت ہیں۔

ایف سی آر اے کی منسوخی کے ذریعے این جی اوز کو دبانا ایک آزمودہ حربہ ہے: عالمی سطح پر اور ہندوستان میں بہت سی این جی اوز نے من مانی یا سیاسی طور پر اثرانداز ہونے کی غرض سے لائسنسوں کی منسوخی کی شکایت کی ہے۔

لداخ کی جغرافیائی دوری اور اس کی خصوصی انتظامی حیثیت (2019 کی تنظیم نو کے بعد) کا مطلب ہے کہ مقامی شکایات پہلے سے ہی ایک نازک سیکورٹی اور آئینی ڈھانچے کی حامل ہیں۔

تفصیلی ثبوت / عوامی انکشاف
وانگ چک کے حامی اور ساتھی یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ الزام لگانے والے حکام مواصلات، فنڈنگ ​​ٹریلز، یا آپریشنل کوآرڈینیشن کے واضح، قابل تصدیق ثبوت پیش کریں گے جو وانگ چک کے  "پاکستان لنک" کےحکومتی دعوے کی حمایت کرتے ہوں۔ قانونی فائلنگ، چارج شیٹ، یا عدالتی کارروائی روشنی ڈال سکتی ہے لیکن پولیس کی طرف سے ایسا کچھ بھی سامنے نہیں آ رہا۔

عدالتی جائزہ / عدالتی چیلنجز
وانگچوک کے ساتھی اور وکلا  NSA کے تحت حراست کو چیلنج کرنے کے متعلق  ہیں، ضمانت کی درخواست کر سکتے ہیں، یا اقدامات کے دائرہ اختیار یا آئینی حیثیت کا مقابلہ کر سکتے ہیں (مثلاً منتقلی، احتیاطی حراست)۔

این جی او/سول سوسائٹی کا ردعمل
ہندوستانی اور بین الاقوامی این جی اوز، انسانی حقوق کے گروپس، قانونی اداروں کا ردعمل عوامی رائے، قانونی حیثیت اور حکام پر دباؤ وانگ چک کے متعلق حکام کے عزائم کو متاثر کرسکتا ہے۔

مزید گرفتاریاں/تفتیش میں توسیع
لیہہ مین مقامی کارکنوں میں یہ خدشہ پایا جا رہا ہے کہ حکام نیٹ ورک (مقامی یا غیر ملکی) کا حصہ ہونے کے الزام میں اضافی افراد یا اداروں سے منسلک افراد  کو گرفتار  کر سکتے ہیں یا ان پر یہ لیبل لگا سکتے ہیں۔

سیاسی/عوامی نتیجہ
گھریلو طور پر، یہ لداخ میں مزید مظاہروں کو تیز کر سکتا ہے یا اختلاف رائے، سلامتی، وفاقیت اور انسانی حقوق کے بارے میں ہندوستانی سیاست میں بحث کو تیز کر سکتا ہے۔

بین الاقوامی ردعمل
اگر وانگ چک پر لگائے گئے الزامات کو لے کر پاکستان کے خلاف بھی ان الزامات کو سفارتی ذرائع سے اٹھایا جاتا ہے تو پاکستان اس کی تردید کر سکتا ہے۔ نیز، بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے، اگر وہ نظربندی یا اختلاف رائے کو دبانے کا غلط استعمال دیکھتے ہیں تو وہ اس گرفتاری کے معاملہ میں وانگ چک کی مدد کیلئے کود  سکتے ہیں۔ بھارتی حکام نے اب تک صرف الزام ہی لگایا ہے۔ اس الزام کو لے کر کسی بھی سطح پر کوئی ٹھوس چیز سامنے نہیں لائے۔