سٹی42: پہاڑی گاؤں میں کلاؤڈ برسٹ سے آنے والے سیلاب کے دوران لاپتہ ہونے والے 67 افراد کو مردہ قرار دے دیا گیا۔ اب ان بدقسمت افراد کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کاا نتظام کیا جا رہا ہے۔
بھارت کی شمالی پہاڑی ریاست اتراکھنڈ کے گاؤں دھرالی میں کلاؤڈ برسٹ کے بعد لاپتہ 67 افراد کو ہلاک قرار دے دیا گیا ہے۔ اب بدقسمت افراد کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
دھرالی میں کلاؤڈ برسٹ اور اس سے آنے والے سیلاب کے حادثہ کو پیش آئے تقریباً 2 ماہ ہونے والا ہے۔ اس حادثہ میں 67 افراد لاپتہ ہوئے تھے جنھیں انتظامیہ کی طرف سے تلاش کرنے کی کوشش کی گئی تھی، حالانکہ ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
اس سال مون سون کی بارش اور لینڈسلائیڈ ، کلاؤڈ برسٹ اور سیلاب کی آفات نے کئی ریاستوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان ریاستوں میں اتراکھنڈ کا نام بھی شامل ہے جہاں اس برسات میں کئی مقامات پر کلاؤڈ برسٹ کے باعث تباہی کا منظر سامنے آیا۔ ایسا ہی منظر آج سے 51 دن قبل دھرالی گاؤں میں بھی دیکھنے کو ملا تھا، جب کلاؤڈ برسٹ کے سبب ہونے والی شدید بارش کے دوران پورا گاؤں پہاڑ سے لڑھکنے والے ملبہ کی زد میں آ گیا تھا۔ اس حادثے میں کئی لوگوں کی جانیں گئیں اور کئی لوگ لاپتہ ہو گئے تھے۔ حادثے کے تقریباً 2 ماہ بعد حکومت نے لاپتہ افراد کے ڈیتھ سرٹیفکیٹس جاری کرنے کا حکم صادر کر دیا ہے۔
دھرالی حادثہ میں 67 افراد لاپتہ ہوئے تھے جنہیں انتظامیہ کی طرف سے تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی، لیکن ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ یہی وجہ ہے کہ اب ریاستی حکومت نے بھارت کی مرکزی حکومت کی منظوری کے بعد ان 67 افراد کی ہلاکت سے متعلق سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹس جاری ہونے کے بعد لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو بطور راحت مالی امداد دی جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ دھرالی گاؤں میں کلاؤڈ برسٹ کے بعد ریاستی حکومت نے لاپتہ افراد کی موت کا اندراج کرنے کے لیے وزارتِ داخلہ کو تجویز بھیجی تھی۔ اب وزارتِ داخلہ کے چیف رجسٹرار نے لاپتہ افراد کی موت کا اندراج کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وزارتِ داخلہ نے 2021 کے طرز پر دھرالی سانحے میں لاپتہ افراد کی موت کا اندراج کرنے کی منظوری دی ہے۔ 2021 میں چمولی ضلع کے رینی میں بھی ایسا ہی حادثہ پیش آیا تھا۔
اگرچہ مرکزی حکومت نے موت کے سرٹیفکیٹس جاری کرنے کے احکامات دے دیئے ہیں، لیکن یہ وقت طلب کام ہے۔ یعنی فوری طور پر ڈیتھ سرٹیفکیٹس جاری نہیں ہو پائیں گے، کیونکہ کئی طرح کی کاغذی کارروائیاں بھی ہوں گی۔
آفت میں لاپتہ افراد کا موت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے ہر متعلقہ شخص کی گمشدگی کی الگ سے شکایت درج کرانی ہوگی۔ اس کے بعد 30 دن کا نوٹس جاری کیا جائے گا اور اگر اس دوران کوئی اعتراض درج نہ ہوا تو موت کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جائے گا۔
34سیکنڈ میں گاؤں نابود ہوگیا
اترکاشی کے گاؤں دھرالی میں 5 اگست کی دوپہر 1.45 بجے کلاؤڈ برسٹ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ کھیر گنگا ندی میں سیلاب آنے کے باعث محض 34 سیکنڈ میں دھرالی گاؤں ملبہ تلے دب کر صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ دھرالی جانے والی سڑکیں بھی تباہ ہو گئیں۔ ملبہ اتنی تیزی سے گاؤں میں داخل ہوا کہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا تھا۔