سٹی42: راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈ نٹ نے بھارتی میڈیا میں پی ٹی آئی کے بانی کی اڈیالہ جیل میں وفات کے متعلق بھارت کے میڈیا میں پھیلائی گئی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور وضاحت کی ہے کہ عمران خان کے متعلق تمام افواہیں بے بنیاد اور غلط ہیں۔
پس منظر
کل بانی کی بہنوں نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیا تو علیمہ خان نے الزام لگایا تھا کہ عمران خان کو "قید تنہائی" میں رکھا جا رہا ہے۔ اس الزام کو لے کر آج بدھ کے روز بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹس میں عمران خان کے بارے میں افواہیں شائع ہوئیں۔ ان افواہوں میں یہاں تک چلے گئے کہ مرنے، بیمار ہونے یا انہیں جیل سے کہیں اور بھیجے جانے کی اافواہیں شائع کر ڈالیں۔ یہ تمام افواہیں غلط ہیں۔
دن بھر جیل حکام خاموش رہے تاہم سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی افواہوں کو ختم کرنے کے لئے آج شب اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ پی ٹی ٓئی کے بانی جیل میں صحت مند حالت میں موجود ہیں، ان کو کہیں شفٹ بھی نہیں کیا جا رہا اور وہ صحت مند بھی ہیں۔
سپریٹینڈینٹ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ مجھے بھی صحافی بھائیوں کی کالز آرہی ہیں وہ کہہ رہے ہیں ایسی کوئی بات ہے۔ سپریٹینڈینٹ نے بھارتی میڈیا کی پھیلائی ہوئی بے سروپا افواہوں پر طنز کرتے ہوئے کہا، میں جیل انتظامیہ کو اطلاع کرنے پر انڈین میڈیا کا شکر گزار ہوں۔
عمران خان کی صحت کے متعلق انہوں نے کہا، "میں چیک کرلیتا ہوں انکے منہ میں خاک!" ۔سپریٹینڈینٹ اڈیالہ جیل نے کہا، میں بانی کی مزید صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں اپنی پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں الحمدللہ وہ مکمل طور پر صحت یاب ہیں ۔
سپریٹینڈینٹ اڈیالہ جیل نے بتایا کہ جیل خانہ جات پنجاب ملکی میڈیا کے زمہ داران کو جواب دہ ہے ابھی تھوڑی دیر تک آفیشل پریس ریلیز مل جائے گی ۔
اس کے بعد سپریٹینڈینٹ اڈیالہ جیل کی طرف سے ایک پریس ریلیز بھی میڈیا آؤٹ لیٹس کو مل گئی۔ اس پریس ریلیز میں بھارتی میڈیا کی پھیلائی ہوئی افواہوں کی تردید کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ پی ٹی آئی کے بانی کو اڈیالہ جیل سے کہیں منتقل بھی نہیں کیا جا رہا۔
آج بدھ کے روز بھارتی میڈیا پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے انتقال کی خبریں زیر گردش کرتی رہیں۔ اس کے بعد شام کو پی ٹی آئی کے بانی کی صحت کے حوالے سے اڈیالہ جیل حکام کا بیان سامنے آگیا۔ جس میں بتایا گیا کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں مکمل طور پر صحت مند ہیں۔
اڈیالہ جیل حکام کا کہنا ہےکہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ان کی صحت کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔
اڈیالہ جیل حکام کا کہنا ہےکہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنےکی افواہیں بے بنیاد ہیں۔
اصل کہانی کیا ہے - "عمران خان کہاں ہے؟"
متعدد ہندوستانی آؤٹ لیٹس آج افواہ کو یہ رپورٹ کرنے کے نام سے پھیلاتے رہے ہیں کہ "یہ افواہیں منظر عام پر آ رہی ہیں کہ عمران خان کی اڈیالہ جیل میں موت ہو گئی ہے۔" یہ افواہیں - جن کی کسی معتبر ایجنسی سے تصدیق نہیں ہوئی ہے - ایسا لگتا ہے کہ جھوٹا پروپیگنڈا جان بوجھ کر پھیلانے والے گروہ کی سوشل میڈیا پوسٹس اور افغان میڈیا کے بعض دعووں سے پیدا ہوئی ہیں۔
بھارت کی مؤقر ترین میڈیا آؤٹ لیٹس میں شائع ہو جانے والی ان میڈیا رپورٹس کے مطابق "ان افواہوں نے ان کے اہل خانہ اور حامیوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی" "کیونکہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے ان کے اہل خانہ اور دیگر ملاقاتیوں کو ان سے ملنے سے روک دیا گیا ہے۔"
یہ بات کہ عمران خان سے کسی کو نہیں ملنے دیا جا رہا ور وہ "قید تنہائی" میں ہیں، منگل کے روز عمران خان کی بہن علیمہ خان نے میڈیا کیمروں کے سامنے کہی تھی۔ ان کی اس بات سے جنم لینے والی فیک نیوز میں ان کے بھائی کی وفات ہی کروا دی گئی۔

افغانستان ٹائمز - کچھ ہندوستانی میڈیا نے موت کے دعوے کی اصل کے طور پر حوالہ دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق، دعوے میں کہا گیا ہے کہ "پاکستان کے ایک معتبر ذریعے" نے تصدیق کی ہے کہ عمران خان کو "پراسرار طور پر قتل کر دیا گیا ہے۔"
انڈیا ٹوڈے، جمہوریہ کی دنیا اور دو دیگر نے اس بات کو رپھیلایا۔
ٹائمز آف انڈیا - نے ایک کہانی چلائی جس کا عنوان تھا "عمران خان کہاں ہیں؟ سابق پاکستانی وزیر اعظم کی موت کی افواہوں نے سوشل میڈیا پر قبضہ کر لیا؛ بہنوں نے ان کی موت کی غیر تصدیق شدہ افواہوں کو نوٹ کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔"
دی اکنامک ٹائمز اور دو دیگر نے اس بات کو مزید پھیلایا۔
دی اکنامک ٹائمز نے ایک تحریر شائع کی جس میں لکھا گیا تھا کہ "موت کی افواہیں وائرل ہو رہی ہیں" اور سوشل میڈیا اور افغان میڈیا کے دعووں کا حوالہ دیتے ہوئے کہ وہ جیل میں "پراسرار طور پر مارا گیا"۔
اوپی انڈیا اور دو دیگر نے اسے پھیلایا
آج تک (ہندوستان میں ہندی زبان کا میڈیا) - جیل کے اندر ان کی موت کی افواہوں کی اطلاع دینے والا ایک مضمون شائع ہوا، جس میں سوشل میڈیا پر پھیلی ہوئی قیاس آرائیوں کو نوٹ کیا گیا اور انہیں "افواہ" (افواہیں) کہا گیا۔
عمران کی تین بہنوں - نورین خان، علیمہ خان اور عظمیٰ خان نے ان کی پارٹی کے کچھ حامیوں کے ساتھ مل کر کل منگل کے روز اڈیالہ جیل والی سڑک پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔یہ احتجاج آدھی رات کو اس وقت ختم ہو گیا جب بانی کی بہنیں پولیس کی اس یقین دہانی پر واپس چلی گئیں کہ ان کی عمران خان سے ملاقات اس منگل کو کروائی جائے گی۔ منگل عمران خان سے ملاقاتوں کا دن ہوتا ہے۔
بانی کی بہنیں تو منگل اور بدھ کی درمیانی رات احتجاج ختم کر کے اپنے گھروں کو واپس چلی گئیں لیکن بھارت کے میڈیا اور سوشل میڈیا میں پراسرار افواہ سازوں نے عمران کے مرنے کی افواہ پھیلا دی۔
بھارتی میڈیا میں آج افواہ کی خبروں کے ساتھ "ایک فیصد حقیقت کا رنگ" ملانے کے لئے بانی کی بہنوں کو یہ کہتے کوٹ کیا گیا کہ انہیں بانی سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔
بانی کی بہنوں اور ساتھیوں کی طرف سے عمران کی صحت کے متعلق لوگوں کو کنفیوژ کرنے والے بیانات آنا کوئی نئی بات نہیں، یہ بیانات عدالتوں تک گئے اور عدالتوں نے ان کے کہنے پر عمران خان کا کئی مرتبہ میڈیکل بورڈوں سے معائنہ کروایا لیکن ہر بار ان کی صحت صحیح نکلی۔
بھارتی میڈیا نے عمران خان کی وفات کی افواہوں کو وزن دینے کے لئے ان کی بہنوں کے کل منگل کے روز دیئے گئے بیانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جو ان کے ساتھ گزشتہ منگل کو لیڈی پولیس کے مبینہ سلوک کے متعلق تھے۔ بھارتی میڈیا آؤٹ لیتس نے لکھا اور نشر کیا کہ بانی کے اہل خانہ اور پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ان کا عمران سے کوئی تصدیق شدہ رابطہ نہیں ہے، اور حکام نے ان افواہوں کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے۔