ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سری نگرکی جامع مسجد میں مسلسل 8 ویں سال بھی عید کی نماز پر پابندی

مسلمانوں کو ایک بار پھ نماز ادا کرنے کے بنیادی حق سے محروم کر دیا گیا ، میر واعظ عمر فاروق

سری نگرکی جامع مسجد میں مسلسل 8 ویں سال بھی عید کی نماز پر پابندی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) مقبوضہ جموں کشمیر کے چیف عالم دین اور جامع مسجد سری نگر کے خطیب میر واعظ عمر فاروق نے الزام لگایا ہے کہ جموں کشمیر انتظامیہ نے مسلسل آٹھویں برس بھی جامع مسجد سری نگر میں عیدالاضحی کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی اور انہیں گھر میں نظر بند رکھا گیا۔ میر واعظ نے اس اقدام کو کشمیری مسلمانوں کی مذہبی آزادی، وقار اور شناخت پر ’’منظم حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جموں کشمیر میں عیدالاضحی کے موقع پر ایک بار پھر مذہبی آزادی اور پابندیوں کا معاملہ موضوعِ بحث بن گیا ہے، جہاں میر واعظ عمر فاروق نے دعویٰ کیا ہے کہ حکام نے مسلسل آٹھویں سال جامع مسجد سری نگر میں عید کی اجتماعی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ میر واعظ جو کشمیر کے چیف عالم دین اور جامع مسجد کے روایتی خطیب ہیں، نے الزام لگایا کہ انہیں بدھ کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا تاکہ وہ عید کی نماز کی امامت نہ کر سکیں۔سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں میر واعظ نے کہا کہ کشمیر کے مسلمانوں کو ایک بار پھر جامع مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے کے بنیادی حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ عید کے موقع پر کشمیری عوام کو رکاوٹوں، پابندیوں، بند دروازوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ طرزِ عمل گورننس نہیں بلکہ ہماری مذہبی شناخت، وقار اور بنیادی حقوق پر ایک منظم حملہ ہے، جو ہمیں شدید اذیت پہنچاتا ہے‘‘۔

 کشمیر میں تاریخی طور پر جامع مسجد اور عیدگاہ میں ہزاروں افراد نمازِ عید ادا کرتے رہے ہیں، تاہم گزشتہ کئی برسوں سے مختلف مواقع پر وہاں اجتماعی نمازوں پر پابندی عائد کی جاتی رہی ہے۔ میر واعظ نے اپنے بیان میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی نئی نسل عیدگاہ اور جامع مسجد کی روحانی روایت سے دور ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ’’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کشمیر میں بچے عید کی وہ روحانی فضا دیکھے بغیر بڑے ہو رہے ہیں جو صدیوں سے ہماری اجتماعی شناخت کا حصہ رہی ہے۔ ایک پوری نسل ان روایات اور یادوں سے محروم کی جا رہی ہے جنہوں نے کشمیری معاشرے کی تشکیل کی تھی‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی عقیدے کو طاقت کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔ میر واعظ نے کہا کہ ’’زمین کی کوئی طاقت اس روحانی تعلق کو ختم نہیں کر سکتی جو کشمیری عوام جامع مسجد، عیدگاہ اور اپنے مذہبی اداروں کے ساتھ رکھتے ہیں‘‘۔

یاد  رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب میر واعظ نے اپنی نظر بندی یا مذہبی سرگرمیوں پر پابندی کا الزام عائد کیا ہو۔مارچ 2026 میں بھی انہوں نے الزام لگایا تھا کہ رمضان المبارک کے دوران انہیں گھر میں نظر بند رکھا گیا اور جامع مسجد سری نگر میں نمازِ جمعہ اور تراویح کی امامت سے روکا گیا۔