ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فلوٹیلا پر حملہ، یورپی یونین اسرائیل پر سخت پابندیاں لگائے، فرانسیسی وزیراعظم

 فلوٹیلا پر حملہ، یورپی یونین اسرائیل پر سخت پابندیاں لگائے، فرانسیسی وزیراعظم
کیپشن: اسرائیلی وزیرہاتھ پیچھے بندھے کارکنوں کا مذاق اڑا رہا ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)یورپ کے اہم ملک فرانس نے غزہ فلوٹیلا کے امدادی کارکنوں پر اسرائیلی حملے کے بعد یورپی یونین سے اسرائیل پر سخت پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے، فرانسیسی وزیر اعظم سیباسٹین لیکورنو نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے فریم ورک کے دائرے میں رہ کر سخت اقدام اٹھانا ناگزیر ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس نے منگل کو غزہ کیلئے  امداد لے کر جانے والے بحری قافلے کے اراکین پر ہونے والے اسرائیلی تشدد کے بعد یورپی یونین سے سخت پابندیوں کا مطالبہ کیا۔ ایک سینئر وزیر نے کہا کہ یورپی یونین کے فریم ورک کے اندر کارروائی کرنا ضروری ہے۔بعد ازاں وزیرِ اعظم سیباسٹین لیکورنو نے قومی اسمبلی میں کہا کہ یورپی یونین کے فریم ورک میں پابندیوں کے ساتھ آگے بڑھنا انتہائی ضروری ہے۔ ایک ملک ہونے کے ناطے فرانس کا قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری کے ساتھ جوابی کارروائی نہ کر ناقابلِ تصور ہے۔انہوں نے مزید کہا  کہ کچھ لوگ اس کا احترام نہیں کرتے، اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہم بھی اس کا احترام کرنے میں ناکام رہیں۔

یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ گزشتہ پیر کو اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی سمندرمیں غزہ کیلئے جانیوالے ’گلوبل صمود فلوٹیلا کے انسانی بحری قافلے پر حملہ کیا۔ قافلے کی براہِ راست نشریات میں اسرائیلی بحری افواج کو ہر جہاز کو روکتے ہوئے دکھایا گیا۔تاہم پابندیوں کا یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب ایک ویڈیو فو ٹیج گردش کرنے لگی جس میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا اہم اتحادی اتمار بین گویر کو ہاتھ پیچھے بندھے اور گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے کارکنوں کے درمیان چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس فوٹیج میں بین گویر اسرائیلی جھنڈا لہراتے اور قیدیوں کو طعنے دیتے نظر آ رہا ہے۔

50ے زیادہ کشتیوں پر مشتمل یہ قافلہ گزشتہ جمعرات کو ترکی کے بحیرہ روم کے ضلع مرماریس سے روانہ ہوا تھا تاکہ غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی جو 2007 سے جاری ہے کو توڑنے کی ایک نئی کوشش کی جا سکے۔قافلے کے مطابق اس مشن میں426؍ شرکاء تھے جن میں92ترک کارکن اور39دیگر ممالک (جرمنی، امریکہ، ارجنٹائن، آسٹریلیا، بحرین، برازیل، الجیریا، انڈونیشیا، مراکش، فرانس، جنوبی افریقہ، برطانیہ، آئرلینڈ، سپین، اٹلی، کینیڈا، مصر، پاکستان، تیونس، عمان اور نیوزی لینڈ) کے شرکاء شامل تھے۔29اپریل کو اسرائیلی افواج نے یونان کے جزیرے کریٹ کے ساحل کے قریب غزہ کے لیے جانے والے ایک اور امدادی مشن پر حملہ کیا۔ منتظمین نے بتایا کہ اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانی میں کارکنوں کو لے جانے والی کشتیوں کو روکا،177 کارکنوں کو حراست میں لیا اور غزہ سے تقریباً 600؍بحری میل کے فاصلے پر جو یونانی علاقائی پانی سے کئی میل دور تھا ،ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔