ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارتی متعصب عدلیہ کی آزادی پسند کشمیری خواتین کو سزا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کا احتجاجی مظاہرہ

بھارتی متعصب عدلیہ کی آزادی پسند کشمیری خواتین کو سزا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کا احتجاجی مظاہرہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احمد منصور)بھارتی متعصب عدلیہ کے ایک اور جانبدارنہ فیصلے کا شکار کشمیری  خواتین اسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو سزائے سنائے جانے کے خلاف دارالحکومت میں احتجاج کیا گیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام منعقدہ  احتجاجی مظاہرہ میں مرد و خواتین سمیت کشمیری مہاجرین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

 میڈیا رپورٹ کے مطابق مظاہرے کی قیادت کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی ، ایڈووکیٹ پرویز ، محمود ساغر ، زاہد اشرف ، شوکت میر ، زاہد صفی و دیگر نے کی،مظاہرین نے برہان وانی چوک سے علمدار  چوک تک مارچ کیا ،مارچ میں موجود شرکاء نے بھارت مخالف شدید نعرے بازی کی، خواتین نے ہاتھوں میں سیاہ پرچم اور بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں نعروں سے مزین بینرز تھام رکھے تھے۔

 مقررین نے  مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو جبری انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،بھارت کے اوچھے ہتھکنڈوں سے کشمیری خائف  نہیں ہونگے اور نہ ہی آزادی  سے کم کسیے حل پر سمجھوتا کریں گے، عالمی برادری خطے میں امن کے پائیدار حل کےلیے کوششیں تیز کرے اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لے ، 


آزادی پسند کشمیری خواتین آسیہ اندرابی ناہید نسرین اور دیگر اسیران کی سزاؤں کے فیصلے کے خلاف کل جماعتی حریت کانفرنس کے قائدین نے پریس کانفرنس کی۔جس میں کل جماعتیں حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی سیکریٹری جنرل پرویز احمد شاہ محمود ساغر ، زاہد اشرف ، شوکت میر ، زاہد صفی  اور دیگر موجود تھے ۔مقررین نے بھارتی عدالت کے فیصلے کو انصاف کا قتل، بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور کشمیری عوام کی جائز جدوجہدِ آزادی کو دبانے کی ناکام اور مذموم کوشش قرار دیا۔ کنوینئر غلام محمد صفی کا کہنا تھا کہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو عمر قید کی سزائیں دینا درحقیقت کشمیری عوام کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش ہے۔بھارت ایک طرف خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے جبکہ دوسری طرف مقبوضہ جموں کشمیر میں سیاسی کارکنوں، بالخصوص خواتین کے خلاف انتقامی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے،بھارت اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے حریت قیادت کو مرعوب نہیں کر سکتا اور کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
  سیکریٹری جنرل ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ نے کہاکہ یہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے مسلمہ اصولوں کے صریح منافی ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت عدالتی نظام کو سیاسی انتقام کے لئے استعمال کررہا ہے۔سابق کنوینئر محمود احمد ساگر کا کہنا تھا کہ   کشمیری خواتین نے تحریکِ آزادی میں ہمیشہ جرات، عزم اور استقامت کی روشن مثالیں قائم کی ہیں اور اس نوعیت کے اقدامات ان کے حوصلے ہرگز پست نہیں کر سکتے۔

 ترجمان آزاد کشمیر حکومت شوکت جاوید میر نےکہا ہےکہ حکومتِ آزاد کشمیر کی جانب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ کشمیری عوام کی آواز ہر سطح پر مؤثر انداز میں اٹھائی جاتی رہے گی۔