ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خطرہ، محکمہ موسمیات کا الرٹ جاری

گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خطرہ، محکمہ موسمیات کا الرٹ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ویب ڈیسک: محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے آنے والے سیلاب کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے پیشگوئی کی ہے کہ شدید گرمی کی لہر جولائی کے پہلے ہفتے تک برقرار رہے گی۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کیے گئے الرٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر معمولی حد تک بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث ان علاقوں کی برفانی وادیوں میں برف اور گلیشیئر تیزی سے پگھلیں گے۔

الرٹ کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند رہنے کا امکان ہے، موجودہ گلیشیائی جھیلیں تیزی سے پھیل سکتی ہیں اور ان میں پانی کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

 محکمہ موسمیات کے مطابق اس صورت میں پگھلنے والے پانی کی بڑی مقدار کے باعث نئی گلیشیائی جھیلیں بھی بن سکتی ہیں۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ دریاؤں کے کنارے واقع نشیبی اور حساس علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ ہے، جبکہ بعض مقامات پر فلیش فلڈ بھی آ سکتے ہیں۔

الرٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گلیشیائی جھیلوں کے تیزی سے پھیلنے کے باعث ان کے قدرتی برفانی یا پتھریلے ملبے سے بنے بند غیر مستحکم ہو سکتے ہیں، جس سے گلوف کے واقعات رونما ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

 محکمہ موسمیات کے مطابق موجودہ موسمی حالات پہاڑی ڈھلوانوں سے مٹی اور پتھروں کے بڑے ریلوں کا سبب بن سکتے ہیں، جبکہ دشوار گزار علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

شہریوں اور سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں کے قریب جانے سے گریز کریں، دریا کنارے، گلیشیائی جھیلوں اور تنگ پہاڑی وادیوں میں کیمپنگ یا ٹریکنگ نہ کریں۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں سپارکو نے ملک بھر میں 130 ایسی گلیشیائی جھیلوں کی نشاندہی کی تھی جو ممکنہ طور پر خطرناک قرار دی گئی ہیں اور جن سے نشیبی آبادیوں کو گلوف کے باعث خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت نے بھی شدید گرمی کے پیش نظر صوبے کے تمام اسپتالوں کو ہیٹ ویو سے متاثرہ اور ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کے علاج کے لیے خصوصی ایمرجنسی یونٹس قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔