ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے ریپ اور مبینہ جعلی شادی کے مقدمے میں ایک اہم اور نظیر ساز فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف ڈی این اے رپورٹ کی بنیاد پر کسی ملزم کو سزا دینا محفوظ قانونی طریقہ نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ڈی این اے شواہد محض تائیدی نوعیت کے ہوتے ہیں اور دیگر مضبوط و قابلِ اعتماد شواہد کے بغیر انہیں سزا کی واحد بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
جسٹس محمد امجد رفیق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ملزم غلام فرید کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے دی گئی 25 سال قید اور جرمانے کی سزا کالعدم قرار دے دی اور فوری رہائی کا حکم جاری کر دیا۔ عدالت نے اس حوالے سے 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے اہم عدالتی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ریپ کیس کا مقدمہ ایک ماہ سے زائد تاخیر سے درج کیا گیا، جس نے استغاثہ کے مؤقف پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں غیر معمولی تاخیر مقدمے کی سچائی اور شفافیت کو متاثر کرتی ہے، جب تک اس تاخیر کی قابلِ اطمینان وضاحت نہ دی جائے۔
عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ متاثرہ خاتون کے بیان میں اہم تضادات موجود تھے، جبکہ بعد ازاں بعض اضافی الزامات بھی شامل کیے گئے، جن کی آزاد شواہد سے مؤثر تائید نہیں ہو سکی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ میڈیکل رپورٹ بھی ریپ کے الزام کی مکمل اور مؤثر تصدیق نہیں کرتی، جبکہ متاثرہ خاتون کے جسم پر تشدد یا زبردستی کے واضح نشانات بھی موجود نہیں تھے، جس سے استغاثہ کا مقدمہ مزید کمزور ہوا۔لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ فیملی کورٹ کی جانب سے نکاح کو کالعدم قرار دینا بذاتِ خود ریپ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ عدالت نے کہا کہ نکاح کے جعت (Jactitation) سے متعلق ڈگری اور فوجداری مقدمے میں رضامندی کا سوال دو الگ قانونی معاملات ہیں، لہٰذا فوجداری عدالت رضامندی کے معاملے کا آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی پابند ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ قانونی اصول بھی واضح کیا کہ اگر ریپ کا الزام ثابت نہ ہو تو مقدمے کو ازخود زنا یا فورنیکیشن کے مقدمے میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ہر الزام کو قانون کے مطابق الگ اور شک سے بالاتر ثبوت کے ذریعے ثابت کرنا ضروری ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف الزامات کو شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس لیے فوجداری قانون کے مسلمہ اصول کے مطابق شک کا معمولی سا فائدہ بھی ملزم کا قانونی حق ہے، کوئی رعایت نہیں۔ان وجوہات کی بنیاد پر عدالت نے ملزم غلام فرید کی اپیل منظور کرتے ہوئے اس کی 25 سال قید اور جرمانے کی سزا کالعدم قرار دی اور فوری رہائی کا حکم جاری کر دیا۔