ملک اشرف:لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فوجداری مقدمے میں قرار دیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے حاصل شدہ ویڈیو ریکارڈنگ، اگر فرانزک طور پر غیر ترمیم شدہ ثابت ہو جائے، تو وہ فوجداری مقدمات میں بنیادی اور قابلِ اعتماد ثبوت کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔
عدالت نے دوہرے قتل کے ایک کیس میں اپیل اور نظرثانی درخواست پر مشترکہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ریکارڈنگ اس مقدمے میں “خاموش گواہ” کے طور پر سامنے آئی اور اس نے استغاثہ کے متعدد دعوؤں کی نفی کی۔
ویڈیو ثبوت کو کلیدی حیثیت
عدالت کے مطابق جدید دور میں ڈیجیٹل شواہد فوجداری مقدمات میں انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر ویڈیو کی فرانزک جانچ سے یہ ثابت ہو جائے کہ اس میں کوئی ترمیم یا رد و بدل نہیں کیا گیا تو اسے سزا کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ایسے حالات میں ویڈیو ثبوت انسانی گواہوں کی نسبت زیادہ غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد ہو سکتا ہے۔
عینی شاہدین کے بیانات مشکوک قرار
فیصلے میں کہا گیا کہ اس کیس میں پیش کیے گئے عینی شاہدین کے بیانات میں تضادات موجود تھے، جس کی وجہ سے ان کی ساکھ متاثر ہوئی۔ ویڈیو شواہد کے ساتھ مطابقت نہ رکھنے پر ان بیانات پر سوالات اٹھائے گئے۔
غیر مصدقہ مواد ریکارڈ سے خارج
عدالت نے ریکارڈ کا ازسرِنو جائزہ لیتے ہوئے بعض تصاویر اور غیر مصدقہ مواد کو ناقابلِ قبول قرار دے کر خارج کر دیا۔
عدالتی نظیر اور ڈیجیٹل دور
تفصیلی 30 صفحات کے فیصلے میں کہا گیا کہ الیکٹرانک شواہد کو جدید عدالتی نظائر میں تسلیم کیا جا چکا ہے، تاہم ان کی قبولیت کے لیے فرانزک تصدیق بنیادی شرط ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ صرف وہی ویڈیو معتبر سمجھی جائے گی جس کی اصل حالت (unaltered form) فرانزک رپورٹ سے ثابت ہو۔