ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کوہلو، بارکھان اور رکھنی میں پھر زلزلے کے جھٹکے

کوہلو، بارکھان اور رکھنی میں پھر زلزلے کے جھٹکے
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ویب ڈیسک:بلوچستان کے علاقے کوہلو، بارکھان اور رکھنی میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

زلزلہ پیماء مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.2 ریکارڈ کی گئی ہے۔ 

ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کردیاگیاہے۔

زلزلے  کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں سے نکل کر کھلے مقامات پر آ گئے۔

واضح رہے کہ کوہلو، بارکھان اور رکھنی میں گزشتہ روز بھی زلزلے کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے تھے۔ 

 لیویز ذرائع کے مطابق زلزلے سے درجنوں مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ مختلف علاقوں سے مزید نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں ،انتظامیہ اور امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

واضح رہے کہ عام طور پر مانا جاتا ہے کہ ایک زلزلہ دوسرے کا سبب بنتا ہے لیکن پھر بھی اس موضوع پر سائنسدانوں کے درمیان اب تک شدید بحث جاری ہے۔

زلزلےانسان کی جانب سے فطری دنیا کو سمجھنے کے  دعوؤں میں دو بڑے خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اول یہ کہ یہ زلزلے انسانی مشاہدے سے کہیں زیادہ طویل دورانیے تک جاری رہنے والے عمل کا نتیجہ ہوتے  ہیں اور دوسرا یہ کہ یہ اتنی گہرائی میں ہوتے ہیں جہاں انسان کے براہ راست مشاہدے کی اہلیت دم توڑ جاتی ہے۔

ان بڑی رکاوٹوں کے باوجود سائنسدان  ایسے طریقے دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جن سے  زلزلوں کے امکانات کا حساب لگایا جا سکے۔

زلزلے کے بعد سائنسدان جمع شدہ ڈیٹا کا مطالعہ کرتے ہیں تاکہ بہتر طریقے سے سمجھ سکیں کہ ممکنہ طور پر آگے کیا ہونے جا رہا ہے۔ واشنگٹن یونیورسٹی میں ارتھ سائنسز کے پروفیسر ہیرالڈ ٹابن کہتے ہیں کہ ہم نے زمین کے سطح پر اسٹیتھواسکوپ رکھ دیا ہے تا کہ جان سکیں کہ اس کے نیچے کیا ہو رہا ہے۔