آئی جی پنجاب کو 'پب جی' پر پابندی کیلئے مراسلہ ارسال

 آئی جی پنجاب کو 'پب جی' پر پابندی کیلئے مراسلہ ارسال

(سٹی42) آن لائن بیٹل گیم پب جی کھیلنے سے نوجوانوں کی خودکشی کا معاملہ پر پولیس نے ماہر نفسیات کی رپورٹس پر آئی جی پنجاب کو پب جی پر پابندی کے لیے مراسلہ لکھ دیا ۔

تفصیلات کے مطابق آن لائن بیٹل گیم پب جی کھیلنے پر لاہورپولیس نےخود کشی کر نےوالے دونوں نوجوانوں کےکیس کی رپورٹ تیار کر لی،رپورٹس ماہر نفسیات کی مدد سے تیار کی گئی،رپورٹ میں تحریر کیا گیا کہ گیم میں مشن کومکمل کرنےکی لت میں پلیئرذہنی تناؤ اوردباؤ کا شکار رہتا ہے،پرتشدد اورجارحانہ رویے منفی خیالات کومتحرک کرتے ہیں،سارا دن گیم پب جی کھیلنا معاشرے سےدوری کا باعث بنتی ہے،لیٹ نائٹ گیم کھیلنےسے فیزیکلی صحت متاثر ہوتی ہے۔

ذرائع کا کہناتھا کہ 4نکاتی رپورٹ کے بعد آئی جی پنجاب کو گیم پر پابندی کیلئے مراسلہ لکھ دیا گیا،لاہور پولیس کی جانب سے مراسلہ ایس ایس پی ایڈمن ملک لیاقت نےلکھا۔

واضح رہے کہ شمالی چھاؤنی میں جیونٹی جوزف اور ہنجروال میں زکریا کی خود کشی کے واقعات پرقانون نافذ کرنیوالے اداروں نے آن لائن گیم پب جی کو بند کرانے کا فیصلہ کیا ہے، گزشتہ دنوں دو نوجوانوں کے موت کی وجہ ایک ہی بنی،  والدین نے آن لائن گیم کھیلنے سے منع کیا۔ جس پر  لاہور پولیس نے آن لائن گیم پب جی کو بند کرانے کا فیصلہ کرلیا۔

  پی ٹی اے اور ایف آئی اے کو تحریری درخواست کے ذریعے گیم کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے گا، آن لائن گیم پب جی نوجوان نسل کو موت کے منہ میں لے جانے لگی، پولیس نے گیم بند کرانے کیلئے اقدامات شروع کردئیے۔دوسری جانب والدین بھی خودکشیوں کے واقعات پر تشویش میں مبتلا ہیں، والدین کا کہنا ہے کہ گیم بچوں اور والدین میں دوریاں پیدا کررہی ہے۔

یاد رہے پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں مصطفی ٹاؤن کے علاقے میں 16سالہ نوجوان نے خودکشی کرلی تھی ،محمد ذکریا کی لاش پنکھے سے لٹکی ملی اور لاش کے قریب سے موبائل ملا جس پر مشہور ویڈیو گیم پب جی چل رہی تھی۔