ویب ڈیسک: بھارت کی ریاست آسام میں تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ سیلاب کی وجہ سے اب تک کم از کم 68 لوگوں کی ہلاکت ہو چکی ہے، جبکہ ریاست کے 25 اضلاع میں تقریباً 10 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب کے باعث جانی و مالی نقصان پر کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے متاثرین سے گہری ہمدردی اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے آسام میں آنے والے تباہ کن سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ اس قدرتی آفت نے کم از کم 68 قیمتی جانیں لے لی ہیں اور پوری ریاست میں بڑے پیمانے پر تکلیف اور تباہی پھیلائی ہے۔ انہوں نے سیلاب میں اپنے عزیزوں کو کھونے والے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی ہمدردیاں ان تمام لوگوں کے ساتھ ہیں۔کانگریس صدر نے پی ایم کیئرز فنڈ سے سیلاب متاثرہ خاندانوں کیلئے خاطر خواہ امداد فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں ںے سوال کیا ہے کہ آسام کی نام نہاد ’ڈبل انجن حکومت‘ ایک جامع سیلاب کنٹرول، کٹاؤ کے انتظام اور بازآبادکاری کا نظام بنانے میں کیوں ناکام رہی؟ انھوں نے کہا آسام کو ایک مستقل اور سائنسی بنیادوں پر تیار کی گئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
Deeply saddened by the devastating floods in Assam, which have claimed many lives.
— Congress (@INCIndia) July 27, 2026
We extend our heartfelt condolences to the families who have lost their loved ones and stand firmly with everyone affected by this tragedy.
We pray for the safety and well-being of all those…
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھی آسام میں تباہ کن سیلاب کے باعث کئی لوگوں کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔انہوں نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اس آفت سے متاثرہ لاکھوں لوگوں کے ساتھ ان کی مکمل ہمدردی ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ریاستی و مرکزی حکومتیں متاثرہ لوگوں کے راحت اور بچاؤ کے کاموں میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی۔ انھوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ہر سال آسام میں سیلاب آتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوتا ہے اور کئی خاندان برباد ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے جب سیلاب سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط اور مستقل نظام قائم کیا جائے۔ ہمارے پاس ایسا نظام ہونا چاہیے جو سائنسی بنیادوں پر سیلاب کی روک تھام، پیشگی انتباہ، مضبوط بنیادی ڈھانچے اور باز آبادکاری کو ترجیح دے، تاکہ ہر سال لوگوں کو ایسی تباہی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔