ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے یونان کشی حادثے کے مرکزی ملزم ثاقب کی عبوری ضمانت میں 12 فروری تک توسیع کر دی ہے.
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست ضمانت پر سماعت کی تو مدعی جمیل کے وکیل نے بیان دیا کہ ملزم ثاقب اُن کا ملزم نہیں ہے. اس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا مدعیوں کی درخواست پر ہی ایف آئی اے نے کارروائی کی لیکن اب یہ اپنے بیان سے انحراف کر رہے ہیں. چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ ایک ظالم کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انسانی زندگی کی کوئی قیمت ہے یا نہیں ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ادارے کام نہیں کرتے. چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے باور کرایا کہ خود درخواست دی اب کہہ رہے ہیں کہ یہ ملزم نہیں ہے ۔
عدالت نے باور کرایا کہ جو کہتے ہیں یہ سادہ لوگ ہیں ، یہ سادہ لوگ نہیں ہیں۔ یہ ملک ایسے ٹھیک نہیں ہوگا آگے آنا پڑے گا. عدالت نے ہدایت کی کہ تمام مدعیوں کو کل بارہ بجے سپشل سینٹرل کورٹ پیش ہونے کا حکم دے دیا اور ان سب کے بیانات کی تصدیق کریں۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ انگوٹھوں کے نشانات کا فرزانک کرائیں اور اگر ثابت ہوگیا کہ مدعیوں نے درخواست دی تھی تو پھر جھوٹا بیان دینے پر انکے خلاف کارروائی کریں گے.