ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

روس یوکرین کے مقبوضہ علاقوں کی واپسی کے لئے بات تک کرنے پر تیار نہیں

Russia Ukraine War, Russian Intercontinental missal attack on Ukraine , Missal attack on Russia, Ukraine's occupied regions, city42
کیپشن: چھبیس 26 فروری 2025 کو ڈونیٹسک کے علاقے کراماٹوسک شہر کے قریب فرنٹ لائن پر یوکرین کے فوجی اہلکار کام کر رہے ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  روس نے  یوکرین کے پانچ علاقوں کو جو اس نے یوکرین پر حملے کے بعد سے روس میں شامل کر لئے ہیں، ان کی واپسی کے لئے کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔ان میں سے چار ریجن اس وقت روس کے مکمل کنٹرول مین نہیں ہیں۔ اس کے باوجود روس کا کہنا ہے کہ وہ ان علاقوں کو واپس کرنے کے متعلق کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔

 فروری 2022 میں روس نے یوکرین پر حملہ کے آغاز سے ہی متعدد علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور ایک سال بعد ان علاقوں میں سے چار کو روس مین ضم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ فون پر بات کرنے کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یہی کہا تھا کہ روس یوکرین کے مقبوضہ علاقے واپس نہین کرے گا، یوکرین کو ان علاقوں کی واپسی کی امید نہیں رکھنا چاہئے۔ 
دوسری طرف روسی اور امریکی سفارت کار اپنے اپنے  تنازعات کو حل کرنے کے لیے ترکی میں ملاقات کر رہے ہیں۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کا کہنا ہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو 6 مارچ کو یورپی یونین کے ایک خصوصی سربراہی اجلاس میں مدعو کیا گیا ہے تاکہ ممکنہ یورپی "سیکیورٹی گارنٹی" پر بات کی جا سکے۔
اس دوران یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بھی جاری ہے؛ روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے ملک بھر میں اور ملحقہ کریمیا میں گزشتہ رات کے دوران  19 ڈرون مار گرائے، دیگر حکام نے بیلگوروڈ کے علاقے میں ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع دی۔

روس نے یوکرین کے ساتھ جنگ شروع کرنے کے بعد جن علاقوں پر ابتدا ہی میں قبضہ کر لیا تھا ان مین سے 5 ریجنز کو دراصل روس کا حصہ قرار دے کر، یا مقامی آبادی کی روس کے ساتھ شامل ہونے کی خواہش کا حوالہ دے کر روس میں شامل کر لیا تھا۔  ان میں  ڈونیٹسک، لوگانسک، زاپوریزیا اور کھیرسن اور کریمیا شامل تھے۔

دسمبر2023 میں ہی روس نے یہ عندیہ دیا تھا کہ روس اگلے سال یوکرین کے ان چار علاقوں میں صدارتی انتخابات لڑنے کا ارادہ رکھتا ہے جن کا اس نے 2022 میں الحاق کیا تھا۔

دسمبر 2023 میں روس کی جانب سے یوکرین کے مقبوضہ علاقوں کو روس میں ضم کرنے کے اعلانات کے دوران  یوکرین  یہ کہتا رہا کہ ان مقبوضہ علاقوں میں کسی بھی روسی ووٹ کو کالعدم قرار دیا جائے گا اور یوکرین ووٹنگ کی نگرانی کے لیے بھیجے گئے کسی بھی مبصر کے خلاف قانونی کارروائی کرے گا۔

لیکن فروری 2022 سے جاری جنگ کے دوران ان علاقوں میں روس کے محدود کنٹرول نے روس کے لئے لاجسٹک اور سیکیورٹی چیلنجز کو جنم دیا ہے۔

روس کے الحاق کے دعوے کو یوکرین اور بیشتر ممالک نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غیر قانونی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ ماسکو کے زیر کنٹرول علاقوں کو مارشل لاء کے تحت رکھا گیا ہے۔