ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

طلاق دینےیالینےکیلئےمیاں بیوی کی رقم کی ادائیگی کی شرط نکاح نامے پر لکھی جاسکتی یانہیں؟

طلاق دینےیالینےکیلئےمیاں بیوی کی رقم کی ادائیگی کی شرط نکاح نامے پر لکھی جاسکتی یانہیں؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

شاہین:طلاق دینے یا لینے کی صورت میں میاں بیوی کے درمیان رقم کی ادائیگی کی شرط نکاح نامے پر لکھی جا سکتی ہے یا نہیں؟ اس اہم قانونی سوال پر سول کورٹ چوہنگ میں سماعت ہوئی.

جہاں جنت بی بی نے اپنے سابق شوہر پرویز کے خلاف 25 لاکھ روپے کی ریکوری کے لیے دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔

عدالت میں سماعت کے دوران سابق شوہر پرویز کے وکیل وسیم راجپوت نے لاہور ہائی کورٹ کے دو عدالتی فیصلے پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ نکاح نامے میں طلاق دینے یا لینے والے فریق پر رقم کی ادائیگی کی شرط عائد کرنا غیر قانونی ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

درخواست گزار جنت بی بی نے عدالت کو بتایا کہ نکاح کے وقت یہ شرط طے کی گئی تھی کہ اگر شوہر طلاق دے گا تو وہ 25 لاکھ روپے ادا کرے گا جبکہ اگر بیوی طلاق لے گی تو اسے بھی 25 لاکھ روپے ادا کرنا ہوں گے۔ جنت بی بی کے مطابق اسی شرط کی بنیاد پر انہوں نے رقم کی ریکوری کے لیے دعویٰ دائر کیا ہے۔

دوسری جانب سابق شوہر پرویز نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ نکاح نامے پر اس نوعیت کی کوئی شرط درج نہیں تھی بلکہ یہ شرط بعد میں شامل کی گئی ہے، جسے وہ تسلیم نہیں کرتے۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد ڈیوٹی جج نے کیس کی مزید سماعت عدالتی تعطیلات کے بعد مقرر کر دی۔

یہ کیس نکاح نامے میں مالی شرائط کی قانونی حیثیت کے حوالے سے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے، جس پر آئندہ سماعت میں مزید قانونی نکات زیر بحث آنے کا امکان ہے۔