ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان مستقبل کے مالیاتی نظام کے قواعد کی تشکیل میں شریک ہو رہا ہے، بلال بن ثاقب

پاکستان مستقبل کے مالیاتی نظام کے قواعد کی تشکیل میں شریک ہو رہا ہے، بلال بن ثاقب
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر سوشل بزنس، یوتھ اینڈ ٹیکنالوجی فورم منعقد ہوا، جس میں وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کلیدی خطاب کیا۔

چھوٹے قرضوں کے 50 برس مکمل ہونے کی مناسبت سے منعقدہ تقریب کے افتتاحی سیشن میں جنرل اسمبلی کے صدر، تیمور لیستے کے صدر، بھوٹان کے وزیراعظم اور نوبیل امن انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس بھی شریک ہوئے جہاں بلال بن ثاقب نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک طویل عرصے تک دوسروں کی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی استعمال کرتے رہے، لیکن پاکستان اب مستقبل کے مالیاتی نظام کے قواعد کی تشکیل میں بھی شریک ہو رہا ہے۔

اُنہوں نے پاکستان کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ 2018 میں مالیاتی اداروں کو ڈیجیٹل اثاثوں سے لین دین سے روک دیا گیا تھا، تاہم اب اس شعبے کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس تبدیلی کی ضرورت ان کاروباروں کو ہے جن کے پاس کام کرنے کی صلاحیت تو ہے لیکن سرمایہ دستیاب نہیں۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ بات صرف سرمایہ فراہم کرنے کی نہیں بلکہ لوگوں کی صلاحیتیں بڑھانے کی بھی ہے مصنوعی ذہانت کو کسانوں، ڈاکٹروں اور اساتذہ کے کام سے جوڑ کر ان سہولتوں کی کمی دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو ترقی پذیر ممالک میں دستیاب نہیں رہیں۔

اُنہوں نے لینڈ لائن کے بغیر براہ راست موبائل فون تک پہنچنے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی ترقی پذیر ممالک کو بھی اسی طرح کئی روایتی مراحل سے گزرے بغیر آگے بڑھنے کا موقع دے سکتی ہے۔

خطاب میں بلال بن ثاقب نے ٹیکنالوجی کے ساتھ مؤثر ضابطوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی سہولتوں سے محروم لوگوں کو نظام میں شامل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور مؤثر ضابطوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔