ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیشنل فیس لیس سینٹر کاقیام؛ ٹیکس گزار اور ٹیکس افسر کا براہ راست رابطہ ختم

 نیشنل فیس لیس سینٹر کاقیام؛ ٹیکس گزار اور ٹیکس افسر کا براہ راست رابطہ ختم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اسلام آباد میں نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کردیا، جس کے بعد ٹیکس گزاروں اور ٹیکس افسران کے درمیان براہ راست رابطہ ختم ہوجائے گا۔ اس حوالے سے فیصلہ بورڈ ان کونسل کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔

نئے نظام کے تحت ملک میں ٹیکس آڈٹ اور اسیسمنٹ کے طریقہ کار میں اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ پہلے آڈٹ کے لیے منتخب ہونے والے ٹیکس گزار کو مخصوص دفتر اور افسر سے براہ راست معاملہ کرنا پڑتا تھا، تاہم اب تمام کارروائی فیس لیس نظام کے تحت ہوگی۔

نئے طریقہ کار میں ٹیکس کیسز کا انتخاب کسی افسر کے بجائے کمپیوٹرائزڈ رسک بیسڈ سسٹم کے ذریعے کیا جائے گا۔ منتخب کیس خودکار نظام کے تحت ملک کے کسی بھی حصے میں موجود افسر کو تفویض ہوگا، جبکہ ٹیکس گزار کو متعلقہ افسر کی شناخت معلوم نہیں ہوگی اور افسر بھی اپنی مرضی سے کیس کا انتخاب نہیں کرسکے گا۔

نیشنل فیس لیس سینٹر کے تحت ہر کیس 3 مختلف مراحل سے گزرے گا۔ ایک افسر آڈٹ کرے گا، دوسرا اسیسمنٹ کا عمل مکمل کرے گا، جبکہ تیسرا افسر کسی بھی فیصلے کے اجرا سے قبل کام کے معیار کا جائزہ لے گا۔ اس طرح ایک ہی افسر کو پورے کیس پر ابتدا سے اختتام تک اختیار حاصل نہیں ہوگا۔

تمام نوٹسز، جوابات اور سماعتیں ایف بی آر کے آئی آر ایس نظام کے ذریعے الیکٹرانک طریقے سے ہوں گی۔ جہاں قانون کے مطابق موقع پر تصدیق یا ٹیکس وصولی کی ضرورت ہوگی، وہاں یہ ذمہ داری الگ فیلڈ ٹیم انجام دے گی۔

نیشنل فیس لیس سینٹر کی سربراہی چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو کریں گے، جبکہ سینٹر میں فیس لیس آڈٹ، فیس لیس اسیسمنٹ، کوالٹی کنٹرول اور فیلڈ آپریشنز کے لیے الگ شعبے قائم کیے گئے ہیں۔

ایف بی آر کے مطابق نظام کے نفاذ کی نگرانی کے لیے پروگرام مینجمنٹ یونٹ پہلے ہی قائم کیا جاچکا ہے۔ ایف بی آر کو توقع ہے کہ نیشنل فیس لیس سینٹر کے ذریعے ملک بھر میں ٹیکس سے متعلق کارروائی کو زیادہ تیز، شفاف اور منصفانہ بنایا جاسکے گا۔