ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اب  پہلی کلاس میں داخلہ لینے کے لئے بچے کی کم از کم عمر  6 سال

 Pre School, Grade One enrolment, Delhi State, Education Department, Policy Shift , minimum age limit,
کیپشن:    file photo اب ماہرین کہہ رہے ہیں کہ بچوں پر تعلیم کا بوجھ ڈالنے کی کم سے کم عمر کچھ زیادہ رکھی جانی چاہئے۔ کلاس ون میں داخلہ کی عمر اب 6 سال سے 7 سال کے درمیان تجویز کی جا رہی ہے۔ کئی مغربی اور مشرقی ملکوں میں اس آئیڈیا پر کئی سال سے عمل کیا جا رہا ہے البتہ اس  نئے آئیڈیا کے ساؤتھ ایشیا میں نفاذ کی ابتدا دہلی سٹیٹ کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے کی ہے۔ پاکستان میں اس ضمن میں پالیسی، جو تھی، وہی ہے۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: پڑوسی ملک کے دارالحکومت دہلی میں سکولوں کے نئے قواعد نافذ کا حکمنامہ آگیا،اب  پہلی کلاس میں داخلہ لینے کے لئے بچے کی کم از کم عمر  6 سال ہونا لازمی ہے۔ 
دہلی سٹیٹ کی ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے تعلیمی سال 27-2026 سے نافذ ہونے والے نئے قواعد جاری کیے ہیں۔ اب پہلی کلاس میں داخلہ کے لیے بچہ کی اکم از کم عمر 6 سال اور زیادہ سے زیادہ عمر 7 سال طے کی گئی ہے
دہلی حکومت نے اپنے سرکاری سکولوں میں داخلہ کے عمل کو لے کر ایک اہم فیصلہ لیا ہے کہ پہلے گریڈ مین داخلہ کیلئے کم سے کم عمر 6 سال کر دی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے تعلیمی سال 27-2026 سے (اب سے چند ماہ بعد)  نافذ ہونے والے نئے قواعد جاری کیے ہیں۔

 اب پہلی کلاس میں داخلہ کے لیے بچہ کی اکم از کم عمر 6 سال اور زیادہ سے زیادہ عمر 7 سال ہونا چاہئے۔ یہ تبدیلی قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 اور تعلیم کے حق ایکٹ 2009 کے مطابق کی گئی ہے۔

 محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بچوں کی ذہنی، جذباتی اور معاشرتی ترقی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے، تاکہ وہ رسمی تعلیم کے لیے مکمل طور سے تیار ہوں۔
دہلی حکومت کے ذریعہ جاری کردہ نئے سرکلر میں پری سکول سے لے کر پہلی جماعت کے لیے عمر کی حد درجہ ذیل طے کی گئی ہے:

نرسری (پری سکول): 3 سے 4 سال 
لوئر کے جی (پری سکول 2): 4 سے 5 سال
اپر کے جی (پری سکول): 5 سے 6 سال
کلاس 1: 6 سے 7 سال

ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے بتایا کہ ہیڈ آف سکول کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ عمر  کم ہونے کی صورت میں یا عمر زیادہ ہونے کی صورت میں صرف ایک ماہ تک کی چھوٹ دے سکتے ہیں۔ یعنی اگر کسی بچہ کی عمر مقررہ حد سے ایک ماہ کم یا زیادہ ہے تو ہیڈ آف اسکول اپنی صوابدید پر داخلے کی اجازت دے سکیں گے۔

جو طالب علم پہلے سے کسی تسلیم شدہ سکول میں تعلیم حاصل کر رہا ہے اور اگلی جماعت میں جانا چاہتا ہے تو انہیں عمر کی حد میں رعایت دی جائے گی، تاکہ ان کی تعلیم میں کسی طرح کا کوئی خلل واقع نہ ہو۔


افسران کے مطابق یہ قدم داخلہ کے عمل کو مزید شفاف بنائے گا اور تمام بچوں کے لیے یکساں مواقع کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔ تمام سرکاری، امدادی اور پرائیویٹ اسکولوں کو اس کے متعلق ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا بنیادی مقصد بچوں کے تعلیمی معیار میں بہتری لانا اور ابتدائی تعلیم کی سطح کو مضبوط کرنا ہے۔

پہلے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے "ماہرین" کے خیالات کچھ بھی رہے ہوں، اب وہ یہ دلیل دے رہے ہیں کہ کم از کم 6 سال کی عمر میں ہی بچے عام طور پر بنیادی پڑھنے لکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں، جس سے ان کی خواندگی اور  حساب دانی کی مہارت بہتر ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ منصوبہ ابتدائی تعلیم میں موجود عدم مساوات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔