ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

توشہ خانہ کا نیا سکینڈل؛ سابق وزیراعظم سے دس کلو سونا برآمد

 توشہ خانہ کا نیا سکینڈل؛ سابق وزیراعظم سے دس کلو سونا برآمد
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42 :   سونے کے تحفہ میں ملنے والے زیورات توشپ خانہ میں جمع نہ کروانے کا نیا سکینڈل سامنے آ گیا۔ غیر ممالک سے تحفہ مین ملنے والے زیورات توشہ خانہ میں جمع نہ کروانے پر  حکام نے سابق وزیراعظم  کے  بینک لاکرز سے 13 لاکھ ڈالر (تقریباً 37 کروڑ روپے) مالیت کا 10 کلو سونا ضبط کر لیا۔

توشہ خانہ کا نیا سکینڈل بنگلہ دیش میں سامنے آیا ہے۔ اس سکینڈل کا مرکزی کردار بنگلہ دیش کی "خاتونِ آہن" اور کچھ  مہینے پہلے مقبول ترین سمجھی جانے والی وزیراعظم حسینہ واجد ہے۔  حسینہ واجد کے بارے میں تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی طرح وہ بھی غیر ملکوں سے ملنے والے قیمتی تحائف کو گھر لے جانے کی شوقین تھیں۔ حسینہ واجد نے 37 کروڑ روپے مالیت کے سونے کے قیمتی زیورات توشہ خانہ میں جمع کروانے کی بجائے خود رکھ لئے۔ حسینہ واجد کی توشہ خانہ ڈکیتیوں کی ہوش ربا تفاصیل سامنے آنے کی یہ محض ابتدا ہوئی ہے۔

 نیشنل بورڈ آف ریونیو (این بی آر) کے سینٹرل انٹیلی جنس سیل (سی آئی سی) نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے نام پر رجسٹرڈ دو لاکرز سے سونے کے زیورات برآمد کر لیے ہیں۔سی آئی سی کے ایک اہلکار کے مطابق لاکر نمبر 751 اور 753 کھولنے کے بعد مجموعی طور پر 10 کلو سونا برآمد کیا گیا۔ تمام کارروائی بنگلادیش بینک کے قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کی گئی۔

 اس سے پہلے 17 ستمبر کو خفیہ معلومات کی بنیاد پر آگرانی بینک کی دلکشا شاخ میں چھاپہ مار کر یہ دونوں لاکرز ضبط کیے گئے تھے، جن پر مبینہ ٹیکس چوری اور مالی بے ضابطگیوں کے شبہات تھے۔نیشنل بورڈ آف ریونیو کے حکام کے مطابق ستمبر میں ضبط کیے گئے لاکرز عدالتی حکم پر کھولے گئے، جن میں سے سونے کے بار، سکے اور زیورات برآمد ہوئے۔شیخ حسینہ نے اقتدار کے دوران ملنے والے کچھ تحائف ریاستی خزانے میں جمع نہیں کروائے تھے۔

 بنگلہ دیش کی عدالت نے رواں ماہ شیخ حسینہ کو سزائے موت سنائی ہے۔خیال رہے کہ 17 نومبر کو جسٹس غلام مرتضیٰ موجمدار کی سربراہی میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے تین رکنی بینچ نے شیخ حسینہ کی سزائے موت کا  فیصلہ سنایا تھا۔ ٹریبونل کے دیگر 2 ارکان میں جسٹس شفیع العالم محمود اور جج محیط الحق انعام چوہدری شامل تھے۔عدالت نے شیخ حسینہ واجد کے خلاف مقدمات کا 453 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ لیک فون کال کے مطابق حسینہ واجد نے مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے قتل کے احکامات دیے، ملزمہ شیخ حسینہ واجد نے طلبہ کے مطالبات سننے کے بجائے فسادات کو ہوا دی، انہوں نے طلبہ کی تحریک کو طاقت سے دبانے کیلیے توہین آمیز اقدامات کیے۔