ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا ایئرپورٹ آف لوڈنگ کے خلاف اہم اور تفصیلی فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ کا ایئرپورٹ آف لوڈنگ کے خلاف اہم اور تفصیلی فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے ایئرپورٹس پر مسافروں کو بلاجواز آف لوڈ کرنے کے خلاف ایک اہم اور دور رس نتائج کا حامل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے اسے آئینی تقاضوں، شفافیت اور شہری آزادیوں کے منافی قرار دے دیا ہے۔

یہ فیصلہ جسٹس جسٹس راحیل کامران شیخ نے شہری محمد عباس کی درخواست پر جاری کیا، جس میں سیالکوٹ ایئرپورٹ پر نائجیریا جانے والے شہری کو آف لوڈ کیے جانے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا۔عدالت نے اپنے بارہ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ بیرون ملک سفر کا حق آئین کے تحت شہریوں کا بنیادی حق ہے، جس پر بلاجواز قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔آف لوڈنگ کے اختیارات پر سخت قدغن
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ آف لوڈنگ کا اقدام شفافیت اور منصفانہ انتظامی اختیار کے اصولوں کے خلاف ہے۔ عدالت کے مطابق بلاجواز آف لوڈنگ سے نہ صرف شہریوں کو شدید مالی نقصان پہنچتا ہے بلکہ ذہنی اذیت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ  ایف آئی اے کے پاس شہریوں کو روکنے کے لیے محض مفروضوں یا ذاتی تاثرات کی بنیاد پر کوئی قانونی جواز نہیں ہو سکتا۔عدالت نے قرار دیا کہ صرف “فنڈز کی کمی” یا “سفر کے مبہم مقصد” جیسے عمومی جواز دے کر کسی شہری کو ایئرپورٹ پر روکنا غیر قانونی اقدام ہے۔

ایف آئی اے کے لیے نئی گائیڈ لائنزعدالت نے مستقبل کے لیے ایف آئی اے کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مسافر کو آف لوڈ کرنے سے قبل تحریری اور ٹھوس وجوہات فراہم کرنا لازمی ہوگا،مسافر کے انٹرویو کا مکمل ریکارڈ محفوظ کیا جائے گا ،آف لوڈنگ کی تفصیلی کاپی متاثرہ شہری کو فوری طور پر فراہم کی جائے گی ،عدالت نے ان ہدایات کو شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا۔عدالت نے سیالکوٹ ایئرپورٹ پر شہری محمد عباس کو آف لوڈ کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ متاثرہ شہری تمام قانونی تقاضے پورے کر کے دوبارہ بیرون ملک سفر کے لیے مکمل آزاد ہے۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ شہری کو پہنچنے والے مالی نقصان کے ازالے کے لیے وہ الگ سے ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے کا حق رکھتا ہے۔بارہ صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ آئندہ ایسے تمام کیسز کے لیے عدالتی نظیر کے طور پر دیکھا جائے گا، جس سے ایئرپورٹس پر مسافروں کے حقوق کے تحفظ میں نمایاں بہتری کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

Ansa Awais

Content Writer