ویب ڈیسک: سندھ کے صحرائی ضلع تھرپارکر میں قیمتی و خوبصورت پرندے موروں کی ہلاکت کا سلسلہ تاحال جاری ، گزشتہ سات دنوں کے دوران 100 سے زائد مور مر چکے ہیں جس پر مقامی افراد اور ماحولیاتی حلقے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق ضلع کے مختلف دیہی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے جو موروں کی صحت پر براہ راست اثر ڈال رہا ہے۔
محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے ڈپٹی کنزرویٹر میر اعجاز تالپور نے تصدیق کی ہے کہ تحصیل مٹھی کے مختلف دیہاتوں سے موروں کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق آج صبح مٹھی کے گاؤں بھیماسر میں خصوصی ٹیم روانہ کی گئی ہے جو متاثرہ موروں کا علاج اور طبی معائنہ کرے گی۔
ادھر ڈپٹی ڈائریکٹر پولٹری ڈیپارٹمنٹ نے صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کلائمٹ چینج، شدید گرمی اور پانی کی کمی موروں کی بیماری اور ہلاکت کی بڑی وجوہات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ درجہ حرارت موروں کے دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے جس سے وہ بے ہوش یا بیمار ہو جاتے ہیں تاہم بروقت علاج سے ان کی جان بچائی جا سکتی ہے۔